صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 440
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ باپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنِّي أَتَدْرُونَ کی۔ وہ کہتے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قَالُوا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فرمایا: تم جا۔ تم جانتے ہو یہ کونسا دن ہے ؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اُس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ فرمایا: یہ قَالَ فَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ۔ أَتَدْرُونَ أَيُّ معزز دن ہے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا شہر بَلَدٍ هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ۔ قَالَ بَلَدٌ حَرَامٌ۔ أَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا قَالُوا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: معزز شہر ۔ کیا تم جانتے اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ۔ قَالَ شَهْرٌ حَرَامٌ۔ ہو یہ کونسا مہینہ ہے ؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: معزز مہینہ۔ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ آپؐ نے فرمایا: تو پھر اللہ نے تم پر تمہارے خون هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا۔ اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے لئے ایسی ہی معزز کی ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر میں معزز ہے۔ أطرافه: ١٧٤٢، ٤٤٠٣ ، ٦١٦٦، ٦٧٨٥، ٦٨٦٨، ٧٠٧٧۔ تشریح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ ۔ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ : یعنی اے مؤمنو! کوئی قوم کسی قوم سے اُسے حقیر سمجھ کر ہنسی مذاق نہ کیا کرے، ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہو۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) سخر کے بنیادی معنی حقیر جاننے اور ذلت چاہنے کے ہیں۔ (مقاييس اللغة - سخر ) علامہ عینی نے لکھا ہے کہ آیت لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ سے مفسرین نے یہ مراد لی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیں یعنی ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۲۲) امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا یہی شر کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب بعض آدمیوں کو آرام ملتا ہے ، فکر معاش سے گونہ بے فکری حاصل ہوتی ہے، وہ سکتے بیٹھنے لگتے ہیں۔ اب اور کوئی مشغلہ تو ہے نہیں تمسخر کی خُو ڈال لیتے ہیں۔ یہ ا۔ (صحیح مسلم، كتاب البر والصلة، باب تحريم ظلم المسلمو خلله و احتقاره و دمه و عرضه و ماله)