صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 440 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 440

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ باپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنِّى أَتَدْرُونَ کی۔وہ کہتے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فرمایا: تم جانتے ہو یہ کونسا دن ہے ؟ لوگوں نے کہا: قَالَ فَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ حَرَامٌ۔أَتَدْرُونَ أَيُّ اللہ اور اُس کا رسول خوب جانتے ہیں۔فرمایا: یہ معزز دن ہے۔کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا شہر بَلَدٍ هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ۔قَالَ ہے ؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر بَلَدٌ حَرَامٌ۔أَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا قَالُوا جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا: معزز شہر۔کیا تم جانتے اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ۔قَالَ شَهْرٌ حَرَامٌ ہو یہ کونسا مہینہ ہے ؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا قَالَ فَإِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا: معزز مہینہ۔وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ آپ نے فرمایا: تو پھر اللہ نے تم پر تمہارے خون هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا۔اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے لئے ایسی ہی معزز کی ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینہ میں تمہارے اس شہر میں معزز ہے۔أطرافه ١٧٤٢، ٤٤٠٣، ٦١٦٦، ٦٧٨٥، ٦٨٦٨، ٧٠٧٧- تشریح: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوالَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ : یعنی اے مومنو! کوئی قوم کسی قوم سے اُسے حقیر سمجھ کر ہنسی مذاق نہ کیا کرے، ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہو۔(ترجمہ تفسیر صغیر) سخر کے بنیادی معنی حقیر جاننے اور ذلت چاہنے کے ہیں۔(مقاییس اللغة - سخر ) علامہ عینی نے لکھا ہے کہ آیت لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ سے مفسرین نے یہ مراد لی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیں یعنی ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۲۲) امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا یہی شر کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔لے حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب بعض آدمیوں کو آرام ملتا ہے ، فکر معاش سے گونہ بے فکری حاصل ہوتی ہے، وہ لکھتے بیٹھنے لگتے ہیں۔اب اور کوئی مشغلہ تو ہے نہیں، تمسخر کی خُو ڈال لیتے ہیں۔یہ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، باب تحریم ظلم المسلمو خلله واحتقاره ودمه وعرضه وماله)