صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 439
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۳۹ ۷۸ - كتاب الأدب باب ٤٣ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ إِلَى قَوْلِهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ) (الحجرات: ١٢) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اے مومنو! کوئی قوم کسی قوم سے اُسے حقیر سمجھ کر ہنسی مذاق نہ کیا کرے، ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہو۔اور نہ کسی قوم کی ) عورتیں دوسری ( قوم کی) عورتوں کو حقیر سمجھ کر اُن سے جنسی ٹھٹھا کیا کریں۔ممکن ہے کہ وہ (دوسری قوم یا حالات والی) عورتیں اُن سے بہتر ہوں۔اور نہ تم ایک دوسرے پر طعن کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے ناموں سے یاد کیا کرو، کیونکہ ایمان کے بعد اطاعت سے نکل جانا ایک بہت ہی بُرے نام کا مستحق بنا دیتا ہے (یعنی فاسق کا ) اور جو بھی توبہ نہ کرے ، وہ ظالم ہو گا ٦٠٤٢: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۶۰۴۲ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ نَهَى نے ہشام بن عروہ) سے ، ہشام نے اپنے باپ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ سے، ان کے باپ نے حضرت عبد اللہ بن زمعہ يُضْحَكَ الرَّجُلُ مِمَّا يَخْرُجُ مِنَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ الْأَنْفُسِ وَقَالَ بِمَ يَضْرِبُ أَحَدُكُمْ وَسلم نے منع فرمایا کہ آدمی ان ہواؤں سے ہنسے جو امْرَأَتَهُ ضَرْبَ الْفَحْلِ ثُمَّ لَعَلَّلہ نکلا کرتی ہیں اور فرمایا تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو ایسے کیوں مارتا ہے جیسے کسی سانڈ کو مارا جاتا ہے۔پھر شاید اُس کو گلے بھی لگاتا ہے۔اور ثوری اور وہیب اور ابو معاویہ نے ہشام سے (یوں) روایت يُعَانِقُهَا۔وَقَالَ الثَّوْرِيُّ وَوُهَيْبٌ وَ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ جَلْدَ الْعَبْدِ۔کیا، جیسے غلام کو کوڑے لگاتا ہے۔أطرافه: ۳۳۷۷، ٤٩٤٢، ٥٢٠٤۔٦٠٤٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۶۰۳۳: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بن ہارون نے ہمیں بتایا۔عاصم بن محمد بن زید نے بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ ہمیں خبر دی۔عاصم نے اپنے باپ سے ، ان کے