صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 438 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 438

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۳۸ ۷۸ - كتاب الأدب اور دوسرے کو امام حسین ملکی اور اپنے مذاق کی مطابقت سے وہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین دونوں میں سے ایک کے ساتھ محبت کرتے ہوں گے۔ایسے لوگوں کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جو امام حسن یا امام حسین سے محبت کرتے ہیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسا ہونے کے باعث کرتے ہیں۔کہ اگر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسا ہونے کے باعث محبت کرتے تو امام حسن اور امام حسین دونوں میں سے ایک سے محبت نہ کرتے بلکہ دونوں سے کرتے کیونکہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے تھے۔اسی طرح جو شخص اللہ تعالٰی کے لیے محبت کرے گا وہ اس کے سب بندوں سے محبت کرے گا۔پس اگر خدا کے لیے محبت کرنی ہے تو تمام بنی نوع انسان سے محبت کرو۔خدا کے لاکھوں کروڑوں بندے ہیں۔خدا کے لیے محبت کرنے والوں کا فرض ہے کہ سب سے محبت کریں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے خدا کے بندے بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کو خدا تعالیٰ چن لیتا ہے اور ایک عام بندے ہوتے ہیں۔اپنے رسولوں کو اس نے آپ چن لیا، اولیاء و مسجد دین کو چن لیا۔اس لیے جن لوگوں کو اپنے بندوں میں سے خدا تعالیٰ نے چن لیا ہے اُن سے محبت کے ساتھ اُن کی اطاعت کرنا بھی ضروری ہے۔اور جو اُس کے عام بندے ہیں گو اُن کی اطاعت کرنی ضروری نہیں لیکن اُن سے محبت اور نیک سلوک اور ہمدردی لازمی ہے۔پس جو خدا کے لیے محبت ہو گی وہ سب کے ساتھ ہو گی اور جن کو اُس نے چنا ہے اُن کی اطاعت بھی کی جائے گی۔اس حال میں کسی ایک شخص کی خصوصیت نہیں رہتی۔پس اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ بنی نوع انسان سے محبت کرو کسی ایک کی خصوصیت نہیں، سب سے محبت کرو۔خدا کے لیے محبت کرنے کے یہی معنی ہیں۔رسولوں اور ماموروں کی جو خصوصیت ہوتی ہے وہ اُن کے منتخب ہونے کے باعث سے ہوتی ہے اُن کی اطاعت اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اُس کی رضا کے ماتحت ہوتی ہے اس کے خلاف نہیں ہوتی۔پس مدارج کے فرق کو چھوڑ کر تمام بنی نوع انسان سے محبت ضروری اور لازمی ہے۔“ (خطبات محمود، خطبہ جمعہ فرمودہ یکم دسمبر ، ۱۹۲۲، جلد۷ صفحه ۴۲۳، ۴۲۴)