صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 437
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۳۷ ۷۸ - كتاب الأدب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بعض لوگ ہیں جو دشمن کو معاف نہیں کر سکتے حالانکہ اگر وہ سوچیں کہ یہ ہمارے رب کا بندہ ہے تو وہ ضرور اُس کو معاف کر دیں۔ایسے لوگ اپنی دشمنی کو خدا کے تعلق پر مقدم کر لیتے ہیں حالانکہ دانائی یہ ہے کہ خدا کے تعلق کو مقدم کیا جائے کیونکہ اگر کوئی شخص تم سے بدسلوکی کرتا ہے مگر تمہارے باپ سے اُس کا اچھا تعلق ہے اور وہ تمہارے باپ پر احسان کرتا ہے تو تم اپنی ذات کے خیال کو چھوڑ کر باپ کے تعلق کو مقدم کروگے اور کہو گے کہ گو اُس نے مجھے نقصان پہنچایا ہے لیکن چونکہ اُس نے میرے باپ سے اچھا سلوک کیا ہے اس لیے میں اس کی عزت کروں گا۔پس اس طرح اس بات کو سمجھنا چاہیئے کہ گو ایک شخص تمہارا دشمن ہے، تم سے بدسلوکی کرتا ہے مگر اس کا خدا سے تعلق ہے۔اس لیے ہماری شخصی اور ذاتی دشمنی کی خدا کے تعلق کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں۔یہی نیک لوگوں کا قاعدہ ہے ، وہ دیکھتے ہیں گو فلاں ہمارا دشمن ہی ہے لیکن ہمارے خدا کا بندہ تو ہے یا اُس کا اس سے تعلق ہے۔اور اس میں شبہ نہیں کہ خدا ہی کا تعلق قابل لحاظ ہے اسی کو ملحوظ رکھنا چاہیئے۔دیکھو! بنی نوع انسان سے نیک سلوک کو حدیث میں کس قدر اہمیت دی گئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جبکہ سخت تپش ہو گی، ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسی تپش ہو گی مگر ہم ایمان رکھتے ہیں ضرور تپش ہو گی اور بہت سخت ہو گی، کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ کے نیچے ہوں گے۔اُن میں وہ شخص بھی ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہو گا۔بہت سے نادان ہیں جو اس حدیث کے غلط معنی کرتے ہیں۔مثلاً اگر وہ زید سے محبت کرتے ہیں اور بکر سے نہیں کرتے تو وہ زید کی محبت کے متعلق کہتے ہیں کہ ہم خدا کے لیے اس سے محبت کرتے ہیں۔حالانکہ اگر خدا کے لیے محبت ہوتی تو زید بکر دونوں سے ہوتی۔یہ ممکن ہے کہ ذاتی وجوہات کی بناء پر تم زید سے محبت کرو اور بکر یا خالد سے نہ کرو۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نو اسے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما تھے۔اُن کے ذاتی دوست بھی ہوں گے۔ایک شخص کو حضرت امام حسن کا مزاج پسند ہو گا