صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 19
صحیح البخاری جلد ۱۴ 19 ۷۵ کتاب المرضى عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمران ابی بکر سے عمران بْنُ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسِ نے کہا مجھے عطاء بن ابی رباح نے بتایا۔عطاء نے أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْتُ کہا مجھے حضرت ابن عباس نے کہا: کیا میں تمہیں ایسی عورت نہ دکھلاؤں جو جنتیوں میں سے ہے ؟ بَلَى قَالَ هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور۔انہوں نے کہا: یہ جو سانولی عورت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس إِنِّي أُصْرَعُ وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ آئی اور کہنے لگی: مجھے مرگی پڑتی ہے اور میں ننگی لِي قَالَ إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ ہو جاتی ہوں اس لئے آپ اللہ سے میرے لئے وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُعَافِيَكِ دعا کریں۔آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو صبر کرو اور فَقَالَتْ أَصْبِرُ فَقَالَتْ إِنِّي أَتَكَشَّفُ تمہیں جنت ملے گی اور اگر چاہو تو میں اللہ سے دعا فَادْعُ اللهَ لِي أَنْ لَا أَتَكَشَفَ فَدَعَا کرتا ہوں کہ وہ تم کو اچھا کر دے۔وہ کہنے لگی: لَهَا۔حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ عَن میں صبر کرتی ہوں۔اس نے کہا: میں ننگی ہو جاتی ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاء أَنَّهُ رَأَى أُمَّ ہوں۔آپ اللہ سے دعا کریں کہ میں تنگی نہ ہوا زُفَرَ تِلْكَ المُرَأةَ الطَّوِيلَةَ السَوْدَاءَ کروں۔آپ نے اس کے لئے دعا کی۔محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ مخلد بن یزید ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن جریج سے ، ( ابن جریج نے کہا) مجھے عطاء بن ابی رباح) نے بتایا۔عطاء نے حضرت اُم زفر کو کعبہ کے پردے کے پاس دیکھا۔وہ ایک لمبی کالی عورت تھیں۔عَلَى سِتْرِ الْكَعْبَةِ۔بَاب : فَضْلُ مَنْ ذَهَبَ بَصَرُهُ جس شخص کی بینائی جاتی رہی اس کی خوبی ٥٦٥٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۵۶۵۳: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہمیں بتایا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ کہ لیث نے ہم سے بیان کیا۔لیث نے کہا (یزید بن