صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 432
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۳۲ ۷۸ - كتاب الأدب حکومت کا رنگ نہ ہوتا، تو یہ کیونکر ثابت ہوتا کہ آپ واجب القتل کفار مکہ کو باوجود مقدرت انتقام کے بخش سکتے ہیں جنہوں نے صحابہ کرام اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور مسلمان عورتوں کو سخت سے سخت اذیتیں اور تکلیفیں دی تھیں، جب وہ سامنے آئے تو آپ نے فرمایا: لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف:۹۳) میں نے آج تم کو بخش دیا۔اگر ایسا موقع نہ ملتا تو ایسے اخلاق فاضلہ حضور کے کیونکر ظاہر ہوتے۔یہ شان آپ کی اور صرف آپ کی ہی تھی۔کوئی ایسا خُلق بتلاؤ جو آپ میں نہ ہو اور پھر بدرجہ غایت کامل طور پر نہ ہو۔“ نیز فرمایا: ( ملفوظات جلد اول صفحه ۸۳ تا ۸۵) اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے : إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عظيم 0 الجز و نمبر ۲۹ یعنے تو اے نبی ایک خلق عظیم پر مخلوق و مفطور ہے یعنے اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا مستم و مکمل ہے کہ اس پر زیادت متصور نہیں کیونکہ لفظ عظیم محاورہ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔مثلاً جب کہیں کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس قدر طول و عرض درخت میں ہو سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہے۔اور بعضوں نے کہا ہے کہ عظیم وہ چیز ہے جس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطہ اور اک سے باہر ہو۔(براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد اول حاشیه صفحه ۱۹۴) باب ٤٠ : كَيْفَ يَكُونُ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ آدمی اپنے گھر والوں میں کیسا ہو ٦٠٣٩ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :۶۰۳۹ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حکم سے حکم نے ابراہیم الْأَسْوَدِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا (بھی) سے، ابراہیم نے اسود سے روایت کی۔كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا فِي أَهْلِهِ قَالَتْ كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کیا کرتے عَنِ