صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 431
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۳۱ ۷۸ - كتاب الأدب اگر ایک اینٹ ٹیڑھی ہو تو ساری دیوار ٹیڑھی رہتی ہے۔بعض سخاوت تو کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی غصہ ور اور زود رنج ہیں، بعض حلیم تو ہیں لیکن بخیل ہیں، بعض غضب اور طیش کی حالت میں ڈنڈے مار مار کر گھائل کر دیتے ہیں، مگر تواضع اور انکسار نام کو نہیں، بعض کو دیکھا ہے کہ تواضع اور انکسار تو اُن میں پرلے درجہ کا ہے مگر شجاعت نہیں ہے یہانتک کہ طاعون اور ہیضہ کا نام بھی سُن لیں تو دست لگ جاتے ہیں۔میں یہ خیال نہیں کرتا کہ جو ایسے طور پر شجاعت نہیں کرتا اس کا ایمان نہیں۔صحابہ کرام میں بھی بعض ایسے تھے کہ اُن کو لڑائی کی قوت اور جانچ نہ تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم اُن کو معذور رکھتے تھے۔ہر انسان جامع صفات بھی نہیں اور بالکل محروم بھی نہیں ہے۔سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو جمیع اخلاق میں کامل تھے۔اسی لئے آپ کی شان میں فرمایا: إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ 0 (القلم:۵) ایک وقت ہے کہ آپ فصاحت بیانی سے ایک گروہ کو تصویر کی صورت حیران کر رہے ہیں۔ایک وقت آتا ہے کہ تیر و تلوار کے میدان میں بڑھ کر شجاعت دکھاتے ہیں۔سخاوت پر آتے ہیں تو سونے کے پہاڑ بخشتے ہیں۔علم میں اپنی شان دکھاتے ہیں تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں۔الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کابے نظیر اور کامل نمونہ ہے جو خدا تعالیٰ نے دکھا دیا ہے اُس کی مثال ایک بڑے عظیم الشان درخت کی ہے جس کے سایہ میں بیٹھ کر انسان اُس کے ہر جزو سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرلے۔اس کا پھل اس کا پھول اور اس کی چھال، اس کے پتے، غرض کہ ہر چیز مفید ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عظیم الشان درخت کی مثال ہیں جس کا سایہ ایسا ہے کہ کروڑ ہا مخلوق اس میں مرغی کے پروں کی طرح آرام اور پناہ لیتی ہے۔لڑائی میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا تھا کیونکہ آپ بڑے خطرناک مقام میں ہوتے تھے۔ایک وقت آتا ہے کہ آپ کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں تھیں کہ قیصر و کسری کے پاس بھی نہ ہوں، آپ نے وہ سب ایک سائل کو بخش دیں۔اب اگر پاس نہ ہوتا تو کیا بخشتے۔اگر