صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 433 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 433

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۳۳ ۷۸ - كتاب الأدب فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ۔تھے ؟ انہوں نے کہا: اپنے گھر والوں کے کام کاج اطرافه: ٦٧٦، ٥٣٦٣- میں رہتے۔جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے اُٹھتے۔تشريح : كَيْفَ يَكُونُ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ: آدمی اپنے گھر والوں میں کیسا ہو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے کام کاج میں رہتے۔مِهْنَةُ لفظ کے معنی ہیں خدمت گزاری، کام میں مہارت اور مستعدی سے لگ جانا۔خدمت گار کو الْمَاهِنُ کہتے ہیں اور الْمَهَدَةُ اس کی جمع ہے۔(عمدۃ القاری، جزء ۵ صفحه ۲۰۰) علامہ ابن بطال نے لکھا ہے کہ نبیوں اور رسولوں کے اخلاق میں سے یہ بھی ہے کہ تواضع اور تذلل اُن کے تمام افعال میں پایا جاتا ہے، آسودگی اور تعم پسندی سے وہ دُور ہوتے ہیں اور وہ اپنی پیش آمدہ ضروریات کو خود پورا کرتے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول كَانَ في مهنة أهله دوام پر دلالت کرتا ہے۔یعنی آپ کا یہ معمول تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی چیز کو ٹھیک اور مرمت کرنے کی ضرورت پیش آتی تو آپ اُس کی اصلاح خود فرمالیتے تھے۔(شرح صحيح البخاری لابن بطال، جزء ۹ صفحه ۲۳۴) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کیا کام کرتے تھے ؟ اس امر کی وضاحت میں امام ابن حجر نے متعدد روایات بیان کی ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ اپنا کپڑا خود صاف کر لیتے تھے ، اپنی بکری کا دودھ دوھ لیتے تھے اور اپنے کام خود کر لیتے تھے۔لے صحیح ابن حبان کی روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ آپ اپنا ڈول خود مرمت کر لیتے تھے۔کے مسند احمد کی روایت ہے کہ آپ اپنے کپڑے کو ٹانکا خود لگا لیتے تھے، اپنا جو تا گانٹھ لیتے تھے اور جو (کام) لوگ اپنے گھروں میں کرتے ہیں، آپ بھی وہ کرتے تھے۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۵۲۶) ہے۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ” آپ سے زیادہ مصروف اور آپؐ سے زیادہ عبادت گزار کون ہو سکتا۔دیکھیں آپ کا اسوہ کیا ہے ؟ کتنی زیادہ گھریلو معاملات میں دلچسپی ہے کہ گھر کے کام کاج بھی کر رہے ہیں اور دوسری مصروفیات میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک میں الشمائل المحمدية للترمذی، باب ما جاء فی تواضع رسول الله ، صفحه ۱۹۴، روایت نمبر ۳۲۵) الصحيح لابن حبان، كتاب الحظر والإباحة، باب التواضع والكبر والعجب، جزء ۱۲ صفحه ۴۹۰، روایت نمبر ۵۶۷۶) (مسند أحمد بن حنبل، مسند النساء، حديث السيدة عائشة رضي الله عنها، جزء ۶ صفحه ۱۲۱)