صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 427 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 427

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۲۷ ۷۸ - كتاب الأدب الْوَادِي فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ فَرَجَعَ کو جاؤ اور اس شخص کی بات سنو۔وہ (وہاں سے) فَقَالَ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ لوٹے تو کہنے لگے: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ اعلیٰ اخلاق کا حکم فرماتے ہیں۔٦٠٣٣: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ :۶۰۳۳: عمرو بن عون نے ہم سے بیان کیا کہ حماد حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدِ عَنْ ثَابِتِ نے جو زید کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔انہوں نے ثابت عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله سے ثابت نے حضرت انس سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ سے زیادہ خوبصورت تھے اور سب لوگوں سے أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ زیادہ سخی تھے اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ایک النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمُ رات مدینہ کے باشندے گھبر اگئے اور لوگ آواز کی طرف چل پڑے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ سامنے سے آتے ہوئے ملے۔آپ اس آواز کی إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ يَقُولُ لَنْ تُرَاعُوا طرف تمام لوگوں سے پہلے گئے تھے۔اور آپ یہ لَنْ تُرَاعُوا وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي فرمارہے تھے : قطع گھبراؤ نہیں، قطعا گھبراؤ نہیں۔طَلْحَةَ عُرْيِ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ وَفِي اور آپ حضرت ابو طلحہ کے گھوڑے پر سوار تھے عُنُقِهِ سَيْفٌ فَقَالَ لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا جنگی پیٹھ تھا، اس پر زمین نہ تھی۔آپ کے گلے میں أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ۔تلوار لٹک رہی تھی۔آپ نے فرمایا: اس کو تو میں نے ایک دریا پایا ہے۔یا ( فرمایا: ) یہ تو دریا ہے۔أطرافه ٢٦٢٧، ۲۸۲۰، ۲۸۵۷، ٢٨٦۲، ٢٨٦٦ ، ۲۸٦٧، ۲۹۰۸، ۲۹۶۸، ۲۹۶۹ -٣٠٤٠ ٦٢١٢ ٦٠٣٤: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۶۰۳۴: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (محمد) ابن منکدر سے اللهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے : نبی صلی ا ولم سے سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ