صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 426
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۲۶ ۷۸ - كتاب الأدب رت مصلح موعود رضی اللہ عنہ آیت وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِر ہے کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "لا تَكُونُوا اَولَ كَافِر ہے۔۔۔اس کی مثال مفسرین اس شعر سے دیتے ہیں: مِنْ أُنَاسِ لَيْسَ فِي أَخْلًا قِهِمُ عَاجِلُ الْفُحْشِ وَلَا سُوءُ جَزَع وہ شخص ایسے لوگوں میں شامل ہے جن کے اخلاق میں نہ تو محش میں جلدی کرنا شامل ہے اور نہ سخت گھبرانا۔وہ کہتے ہیں اس کے یہ معنے نہیں کہ فور آنخش کو اختیار نہیں کرتا بلکہ دیر سے کرتا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ بخش کو نہ جلدی اختیار کرتا ہے نہ دیر سے۔(بحر محیط) یہ محاورہ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمَا أَنَا بِظَلامِ لِلْعَبِيدِ (ق: ع۲) میں اپنے بندوں پر بہت بڑا ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔اس کے یہ معنے نہیں کہ میں تھوڑا ظلم کر لیتا ہوں بلکہ یہ معنے ہیں کہ پہلا مضمون جو گذرا ہے اگر اُسے تسلیم کیا جائے تو اللہ تعالی بڑا ظالم ثابت ہوتا ہے مگر وہ ایسا نہیں ہے۔اُردو میں بھی یہ محاورہ مستعمل ہے۔کہتے ہیں: اتنا قہر کیوں توڑتے ہو۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ چھوٹا قہر بیشک توڑو بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی پر ظلم کرنا و نا جائز ہے پھر تم اس قدر بڑا ظلم کیوں کرتے ہو یا یہ کہ جھوٹ بولنا تو نا پسندیدہ ہے پھر تم اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولتے ہو۔“ وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبُخْلِ۔(تفسیر کبیر، سورة البقرة، زير آيت وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافي به، جلد اول صفحه ۳۸۹) باب ۳۹: حُسْنُ الْخُلُقِ وَالسَّخَاءِ خوش خلقی اور سخاوت اور بخل جو نا پسندیدہ ہے۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ اور حضرت ابن عباس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَأَجْوَدُ مَا تمام لوگوں سے سخی تھے اور زیادہ جو سخاوت کرتے يَكُونُ فِي رَمَضَانَ وَقَالَ أَبُو ذَرٍ لَمَّا تو رمضان میں کرتے۔اور حضرت ابوذر نے کہا: بَلَغَهُ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جب انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا علم ہوا تو وَسَلَّمَ قَالَ لِأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا انہوں نے اپنے بھائی سے کہا: سوار ہو کر اس وادی