صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 425 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 425

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۲۵ ۷۸ - كتاب الأدب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ مَتَى سے باتیں کیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَهِدْتِنِي فَجَّاشًا إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ فرمايا: عائشه با تم نے مجھے کب بد اخلاق دیکھا تھا؟ اللهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ قیامت کے روز اللہ کے نزدیک بد ترین لوگ وہ ہوں گے جن کو لوگ ان کے شر سے بچنے کے لئے النَّاسُ اتَّقَاءَ شَرِّهِ۔أطرافه: ٦٠٥٤، ٦١٣١ -۔چھوڑ دیں گے۔ريح : لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِفًا وَلَا مُتَفَعْفًا: بی صلی اللہ علیہ وسلم نه تو بد خلق تھے اور نہ ہی بد زبان۔فحش، فحشاء اور فاحشہ اس قول یا فعل کو کہتے ہیں جو بُرائی میں بہت بڑا ہو۔(المفردات فی غریب القرآن للراغب - فحش) فاحش کے معنی فتیح، بد خلق اور شدید بخیل بھی بیان کیے گئے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، مخش میں داخل ہے۔(اقرب الموارد - فحش) علامہ ابن حجر کے نزدیک ہر وہ قول، فعل یا صفت جو اپنی حد سے تجاوز کر جائے اور اُسے قبیح سمجھا جائے، فحش ہے اور متفخص وہ ہے جو شخش کا ارتکاب ارادة ، تکلف اور کوشش کر کے کثرت سے کرتا ہو۔داودی نے اس کے معنی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاحیش وہ ہے جو فحش گوئی (یعنی بُری اور بے حیائی کی باتیں) کرتا ہو اور مُتَفَقشُ اُسے کہتے ہیں جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے بے حیائی کی باتیں کرے۔(فتح الباری، جزء ۱۰ صفحه ۵۵۶) علامہ عینی لکھتے ہیں : لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِقًا وَلَا مُتَفَقِشًا سے مراد یہ ہے کہ فحش آپ کی ذات میں نہ تو جبلی طور پر تھا اور نہ ہی بالا رادہ ظاہر ہوتا تھا۔(عمدۃ القاری شرح کتاب المناقب، باب ۲۳، جزء ۱۶ صفحه ۱۱۲) زیر باب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : لَم يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابَا وَلَا تحاشا ولا لغانا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو گالی دیا کرتے تھے اور نہ بد خلق تھے اور نہ ہی لعنت کیا کرتے تھے۔الفاظ سبابًا، فحاشا اور لغانا فعال کے وزن پر ہیں جس کے معنی میں مبالغہ اور شدت پائی جاتی ہے۔بادی النظر میں یہ الفاظ ان برائیوں کی محض بہتات، زیادتی اور کثرت کی نفی کر رہے ہیں نہ کہ کلیۂ بُرائی کی۔جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود تو ان برائیوں سے بکلی پاک و مطہر تھا۔کثرت تو کیا ان کی قلت بھی آپ کی ذات مبارکہ میں متصور نہیں ہو سکتی۔دراصل یہ زبان عربی کا طر ز بیان ہے کہ مبالغہ کے صیغہ سے نفی کمال کے معنے لئے جاتے ہیں۔چنانچہ علامہ عینی نے انہی معانی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آیت کریمہ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (فصلت:۴۷) کو بطور نظیر پیش کیا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۱۷) ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور تیر ارت بے چارے بندوں پر ذرہ بھر بھی ظلم کرنے والا نہیں۔“ ر