صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 18
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۸ ۷۵ کتاب المرضى کہ کوئی اس کی مخلوق سے سرد مہری برتے۔کیونکہ اس کو اپنی مخلوق بہت پیاری ہے۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے وہ گویا اپنے خدا کو راضی کرتا ہے۔“ (ملفوظات جلد ۴، صفحہ ۲۱۶،۲۱۵) بابه : عِيَادَةُ الْمُغْمَى عَلَيْهِ جو آدمی بے ہوش ہو جائے اس کو دیکھنے جانا ٥٦٥١: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۵۶۵۱ عبد الله بن محمد (مسندی) نے ہم سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ اُنہوں نے محمد بن منکدر سے ، محمد نے حضرت جابر عَنْهُمَا يَقُولُ مَرِضْتُ مَرَضًا فَأَتَانِي بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔وہ کہتے تھے میں النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي ایک بار بیمار ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر میری عیادت کے لیے پیدل تشریف وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا مَاشِيَانِ فَوَجَدَانِي أُغْمِيَ عَلَيَّ فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى الله لائے اور انہوں نے مجھے بے ہوش پایا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔پھر اپنے وضو کا پانی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبٌ وَضُوءَهُ عَلَيَّ مجھ پر ڈالا اور مجھے ہوش آیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ نبی فَأَفَقْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صل اللہ علیہ وسلم ہیں میں نے کہا: یارسول اللہ! میں وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ اپنی جائیداد کے متعلق کیا (وصیت) کروں؟ میں أَصْنَعُ فِي مَالِي كَيْفَ أَقْضِي فِي اپنی جائیداد کے متعلق کیا فیصلہ کروں؟ آپ نے مَالِي فَلَمْ يُجِبْنِي بِشَيْءٍ حَتَّى نَزَلَتْ مجھے کوئی جواب نہیں دیا تاوقتیکہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔آيَةُ الْمِيرَاثِ۔أطرافه : ١٩٤، ٤٥٧٧، ٥٦٦٤، ٠٥٦٧٦ ٦٧٢٣، 6743، 7309۔بَاب : فَضْلُ مَنْ يُصْرَعُ مِنَ الرِّيح ٦ جسے ریاح کے رُک جانے سے مرگی پڑا کرتی تھی اس کی فضیلت ٥٦٥٢ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۵۲۵۲: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی ( قطان)