صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 423
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۲۳ ۷۸ - كتاب الأدب عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مَعَ انہوں نے اعمش سے ، اعمش نے شقیق بن سلمہ، مُعَاوِيَةَ إِلَى الْكُوفَةِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللهِ شقیق نے مسروق سے روایت کی۔انہوں نے کہا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ يَكُنْ ہم حضرت عبد اللہ بن عمرو کے پاس آئے جب وہ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَقَالَ قَالَ معاویہ کے ساتھ کوفہ کی طرف گئے۔انہوں نے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا۔کہنے لگے مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا۔کہ آپ نہ بدخلق تھے اور نہ بد زبان۔اور کہا: أطرافه: ۳۰۰۹، ۳۷۵۹، 035۔• رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہی ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔٦٠٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ :۲۰۳۰ محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عبد الوہاب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ ایوب نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے، عبد اللہ نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ يَهُودَ أَتَوا النَّبِيِّ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ يهودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ عَلَيْكُمْ کہنے لگے: السّامُ عَلَيْكُمْ۔حضرت عائشہ نے کہا: وَلَعَنَكُمُ اللهُ وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْكُمْ عَلَيْكُمْ وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ آپ نے فرمایا: عائشہ ! ٹھہرو، نرمی اختیار کرو اور سختی اور بد زبانی سے بچتی رہو۔انہوں نے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا؟ آپ نے قَالَ مَهْلًا يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ۔قَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا جو میں نے کہا؟ میں نے قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ فَيُسْتَجَابُ لِي ان کو وہی جواب دیا۔میری دعا ان کے متعلق فِيهِمْ وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ۔قبول کی جائے گی اور اُن کی دعا میرے متعلق نہیں قبول کی جائے گی۔أطرافه ٢٩٣٥، ٦٠٢٤، ٦٢٥٦، 1390، 6401، 6977۔