صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 422 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 422

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۲۲ ۷۸ - كتاب الأدب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "جس سفارش کا اثر کسی دوسرے کے جائز حقوق پر نہ پڑتا ہو اور وہ اچھے نتائج پیدا کرنے والی ہو تو ایسی سفارش ایک نیکی کا کام ہے جس کے ثواب کا حصہ سفارش کرنے والے کو بھی پہنچے گا۔لیکن اگر سفارش کا اثر دوسروں کے جائز حقوق پر پڑتا ہو اور اُس کے نتائج ملک و قوم کے لئے خراب نکلنے والے ہوں تو ایسی سفارش کرنے والا یہ خیال نہ کرے کہ اُس نے ایک سفارش کر دی اور معاملہ ختم ہو گیا۔بلکہ ایسا شخص یادرکھے کہ اس کی سفارش کے جو جو بھی بُرے نتیجے نکلیں گے اور جہاں جہاں تک بھی اُن خراب نتائج کا اثر وسیع ہوا، سفارش کرنے والا ان سب نتائج کے گناہ کا حصہ دار بنے گا۔مگر افسوس ہے کہ آج کل پچانوے فیصد سفارشیں نیک نتائج پیدا کرنے کی بجائے کمزور اور بیکس لوگوں کے خلاف ظلم اور حق تلفی کا آلہ بنی ہوئی ہیں۔اور ظاہر ہے کہ ایسی سفارش کو قبول کرنے والا بھی عدل و انصاف کے رستہ سے ہٹ کر بھاری گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔“ (مضامین بشیر ، جلد ۲ صفحہ ۲۵۸) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” جہاں تمدن و معاشرت ہو ، حکام و رعایا بھی ہوتی ہے۔وہاں سفارشیں بھی لوگ بہم پہنچاتے ہیں۔اُن کے متعلق ہدایت فرمائی کہ وہ سفارش کرو جو نیکی و بھلائی کے متعلق ہو، جس کا نتیجہ نیک ہو ، جو کسی مظلوم کی مدد ہو۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۲ صفحہ ۴۸) باب :۳۸: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِشًا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو بد خلق تھے اور نہ ہی بد زبان ٦٠٢٩: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :۶۰۲۹ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سلیمان سے روایت أَبَا وَائِلِ سَمِعْتُ مَسْرُوقًا قَالَ قَالَ کی۔(کہا :) میں نے ابووائل سے سنا۔(ابو وائل عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ نے کہا: میں نے مسروق سے سنا۔وہ کہتے تھے : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص) نے کہا۔نیز بْنِ سَلَمَةَ عَنْ مَّسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔