صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 421
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۲۱ ۷۸ - كتاب الأدب بَاب :۳۷: قَوْلُ اللهِ تَعَالَى مَنْ تَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِنْهَا وَ مَنْ تَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُنْ لَهُ كِفَلُ مِنْهَا وَكَانَ اللهُ عَلى كُلِّ شَيْ ءٍ مُّقِيتًا (النساء : ٨٦) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جس نے ایسی شفاعت کی جو اچھی شفاعت ہو ، اُس کو اُس شفاعت کا ایک حصہ ملے گا اور جس نے ایسی شفاعت کی جو بُری شفاعت ہے اس کو بھی ویسے ہی حصہ ملے گا اور اللہ نے ہر ایک چیز کو اُس کا ضروری سامان دیا ہے كِفْلُ نَصِيبٌ۔قَالَ أَبُو مُوسَى كِفْلَيْنِ كِفَل کے معنی ہیں: حصہ۔حضرت ابو موسیٰ نے أَجْرَيْنِ بِالْحَبَشِيَّةِ۔کہا: کفلین کے معنی حبشی زبان میں دُہرا اجر ہے۔٦٠٢٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۲۰۲۸ محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بُرید سے، بُرید نے بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى ابوبُردہ سے ، ابوئر دہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری) اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَتَاهُ ہے ، حضرت ابو موسیٰ (اشعری) نے نبی صلی اللہ السَّائِلُ - أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ - عليه وسلم سے روایت کی کہ جب آپ کے پاس قَالَ اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللہ کوئی سائل یا حاجت مند آتا تو آپ (لوگوں سے) فرماتے: تم بھی سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی اجر دیا عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ مَا شَاءَ۔جائے۔اور پھر اللہ جو چاہے اپنے رسول کی زبان سے اس کی حاجت کو پورا کر دے۔أطرافه: ١٤٣٢، ٦٠٢٧، ٧٤٧٦۔تشريح: مَنْ تَشْفَعْ شَفَاعَةٌ حَسَنَةٌ يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا: جس نے ایسی شفاعت کی جو اچھی شفاعت ہو، اُس کو اُس شفاعت کا ایک حصہ ملے گا۔اسلام انسان کے ان جذبات و احساسات کو تحریض دیتا ہے جو دوسرے انسانوں کی مدد، محبت اور ترقی کے لئے محمد ہوں اور ان بد تحریکوں کو دبانے کی تعلیم دیتا ہے جو نقض امن، ظلم اور تعدی کا باعث ہوں۔صوفیاء کی اصطلاح میں اسے لمہ خیر اور لمہ شر سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہی وہ لمہ خیر ہے جو لہ شر کے مقابل انسانی نفس کے بے لگام گھوڑے کو اعتدال پر رکھتا ہے۔