صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 420
۴۲۰ صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب بن جاتے ہیں جس کے ایک حصہ کی تکلیف سارے بدن کو بے چین کر دیتی ہے۔وہ ایک دوسرے کے لئے اس طرح تعاون کرنے والے بن جاتے ہیں کہ طاقت ور کمزور کو مضبوط کرنے لگتا ہے اور اس عمارت کی طرح بن جاتے ہیں جس کے متعلق حدیث میں آتا ہے : يَشُةُ بَعْضُهُ بَعْضًا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: مؤمن دوسرے مؤمن کے لئے مضبوط عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو تقویت دیتا ہے اور مستحکم بناتا ہے۔آپ نے اس مفہوم کو واضح کرنے کے لئے اپنی انگلیوں کی کنگھی بنائی اور اس طرح اس عمارت کی گرفت کے مضبوط ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔پس تمام کامیابیوں کی جڑ یہ اتحاد ہے جس کی طرف حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان سے بھی نصیحت فرمائی اور ہاتھ کے اشارے سے بھی مضمون کو خوب کھول دیا۔ہر وہ مومن جو ایک دوسرے سے تعلقات میں ایسی مضبوطی رکھتا ہے جیسے ایک ہی انسان کے دو ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد کی پیروی کرنے والا ہے۔جو ایسی طرز اختیار کرتا ہے کہ انگلیاں باہم پیوست ہونے کی بجائے ایک دوسرے کو کاٹنے لگیں اور ایک دوسرے کے مخالف ہو جائیں اُس کا حقیقت میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کاٹا جاتا ہے۔پس ہر وہ حرکت جو جماعت کی اجتماعیت کو طاقت بخشے ، اجتماعیت کو مضبوط تر کرے ، وہی حرکت ہے جو سنت نبوی کے تابع ہے۔ہر وہ حرکت خواہ وہ قول ہو یا فعل ہو اس مضمون کے مخالف ہو ، وہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مخالف بات ہے۔پس اب سے اس بات کو سننے کے بعد اپنی زبانوں پر بھی نگاہ رکھیں، اپنے اعمال اور افعال پر بھی نگاہ رکھیں ، اپنے تعلقات کو اس حدیث کے تابع کر دیں تا کہ جماعت احمد یہ متحد ہو کر پھر تمام بنی نوع انسان کو ایک ہاتھ یعنی محمد مصطفی کے ہاتھ پر اکٹھا کرنے کی سعی کر سکے۔66 خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرموده ۸ اپریل ۱۹۹۴ء، جلد ۱۳ صفحه ۲۵۷،۲۵۶) الصحيح البخاری، کتاب الصلوۃ، حدیث نمبر : ۴۵۹)