صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 419 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 419

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۱۹ ۷۸ - كتاب الأدب عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى کہا: میرے دادا ابو بردہ نے مجھے خبر دی۔ انہوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ نے اپنے باپ حضرت ابو موسیٰ سے، حضرت كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا۔ ثُمَّ ابو موسیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ۔ کی کہ آپ فرماتے تھے: مؤمن مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کیسے رکھتا ہے۔ اور آپ نے اپنی انگلیوں کو قینچی کیا۔ اطرافه : ٤٨١، ٢٤٤٦ - ٦٠٢٧ : وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ۲۰۲۷ : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے وَسَلَّمَ جَالِسًا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ أَوْ کہ ایک شخص آیا جو سوال کر رہا تھا یا کسی ضرورت طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ کو ہمارے سامنے پیش کر رہا تھا تو آپ نے (لوگوں فَقَالَ اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ ے) فرمایا: تم بھی سفارش کرو، تمہیں ثواب ملے گا۔ اور اللہ اپنے نبی کی زبان سے جتنی چاہے گا عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ۔ أطرافه: ١٤٣٢، ٦٠٢٨، ٧٤٧٦۔ حاجت پوری کر دے گا۔ تشريح : تَعَاوُنُ الْمُؤْمِنِينَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا: مؤمنوں کا ایک دوسرے سے تعاون کرنا۔ انبیاء کے معجزات اور پاک انقلاب کا ایک بہت بڑا نشان وہ جماعت ہوتی ہے جو انبیاء کے ذریعہ معرض وجود میں آتی ہے۔ نبی کی بعثت سے قبل وہ معاشرہ انتشار اور افتراق کا ایسا شکار ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو انسان کہلاتے ہیں ان میں ”انسان“ یعنی اُنس اور باہمی محبت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے، ایک دوسرے کی عزت و مال لوٹنے کے خوگر ، خود غرضی، لالچ اور حسد کی ایک ایسی آگ اُن کے سینوں میں جل رہی ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ ہیں شَفَا حُفْرَةٍ وہ آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے کسی بھی لمحے اس آگ میں جل کر خاکستر ہو سکتے ہیں کہ خدا کا دست قدرت ان کے لئے انہی میں سے ایک ایسا وجود کھڑا کرتا ہے جو عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمے کا مظہر ان کے ہر دکھ ہر تکلیف کے لئے تڑپتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کے ذریعہ ان منتشر ٹڈیوں کو ایک ایسے انسانی معاشرے میں تبدیل کر دیتا ہے کہ وہ دو قالب یک جان بن جاتے ہیں۔ وہ ایسا وجود ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اسے بہت سخت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اُٹھاتے ہو۔“ (التوبة : ۱۲۸)