صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 415
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۱۵ ۷۸ - كتاب الأدب نیز فرمایا: میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھائیوں کے لیے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔ اگر ایک بھائی بھوکا مرتا ہو تو دوسر ا توجہ نہیں کرتا اور اُس کی خبر گیری کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یا اگر وہ کسی اور قسم کی مشکلات میں ہے تو اتنا نہیں کرتے کہ اس کے لیے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔ حدیث شریف میں ہمسایہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہا محتک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکاؤ تو شور با زیادہ کر لو تا کہ اسے بھی دے سکو۔ اب کیا ہوتا ہے اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں، لیکن اس کی کچھ پروا نہیں۔ یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا ہی مطلب ہے جو گھر کے پاس رہتا ہو بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔“ (ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۲۱۵) نیز فرمایا: ”جو شخص اپنے ہمسایہ کو ادنی ادنی خیر سے بھی محروم رکھتا ہے وہ میری جماعت میں سے ८८ نہیں ہے۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن خزائن جلد ۱۹ صفحه (۱۹) باب ۳۳ : كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ہر بھلی بات صدقہ ہے ٦٠٢١ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ۲۰۲۱ علی بن عیاش نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابو غسان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: محمد بن مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ منکدر نے مجھ سے بیان کیا۔ محمد نے حضرت جابر ایگان عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہا سے ، حضرت جابر نے نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ۔ ہر بھلی بات صدقہ ہوتی ہے۔ ٦٠٢٢ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۶۰۲۲ : آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي شعبہ نے ہمیں بتایا۔ سعید بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ