صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 414 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 414

صحیح البخاری جلد ۱۴ أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا۔۴۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب میرے دو ہمسائے ہیں۔اُن میں سے کس کو ہدیہ بھیجوں؟ آپ نے فرمایا: اُن میں سے جس کا اطرافه: ٢٢٥٩، ٢٥٩٥۔دروازہ تم سے زیادہ نزدیک ہو۔تشریح: حَق الْجَوَارِ فِي قُرْبِ الْأَبْوَابِ: پڑوی کا حق دروازوں کے قریب ہونے کے مطابق۔باب ۲۸ سے ۳۲ تک پانچ ابواب میں ہمسائے کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔اسلام جس تہذیب اور تمدن کا علمبر دار ہے اس کا آغاز انسان کی ذاتی اور انفرادی زندگی سے ہوتا ہے اور اس کا دائرہ پہلو میں بیٹھنے والے ہم جلیس، ہم جولی اور ہم نشین سے چلتے چلتے گلی محلہ اور پھیلتے پھیلتے کل عالم کو ایک گھر کی طرح ون یونٹ بناتا ہے۔آج کہنے کو تو دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے مگر دنیا کے اکثر معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور انسانی زندگیاں انتشار اور افتراق کا نمونہ پیش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔دور حاضر کے انسان کو ایسی تعلیم کی انتہائی ضرورت ہے جو اسے ایک وجود بنادے۔مذکورہ ابواب میں انسانی رشتوں کو ایک لڑی میں پروکر یک جان بنانے کے اسلامی اصول و اخلاق بیان کئے گئے ہیں۔سورہ نساء کی آیت نمبر ۳۷ کی ذیل میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِى القُربى واليتى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا الجز و نمبر ۵ سورۃ النساء۔(ترجمہ) تم خدا کی پرستش کرو اور اُس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھیر اؤ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور اُن سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرہ میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دور کے تمام رشته دار آگئے) اور پھر فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسایہ ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے رفیق بھی جو کسی کام میں شریک ہوں یا کسی سفر میں شریک ہوں یا نماز میں شریک ہوں یا علم دین حاصل کرنے میں شریک ہوں اور وہ لوگ جو مسافر ہیں اور وہ تمام جاندار جو تمہارے قبضہ میں ہیں سب کے ساتھ احسان کرو۔خدا ایسے شخص کو دوست نہیں رکھتا جو تکبر کرنے والا اور شیخی مارنے والا ہو جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا۔“ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۰۹٬۲۰۸)