صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 413
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۱۳ ۷۸ - كتاب الأدب ٦٠١٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۰۱۹: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: سعید مقبری الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي شُرَيْحِ الْعَدَوِيِّ قَالَ نے مجھ سے بیان کیا۔سعید نے حضرت ابو شریح سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ عدوی سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میرے حِينَ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دونوں کانوں نے سنا اور میری دونوں آنکھوں وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ نے دیکھا۔جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بات کر رہے تھے آپ نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ عزت سے پیش كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ آئے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ قَالَ وَمَا تو وہ اپنے مہمان کو نوازے جیسا کہ مہمان نوازی جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ کا دستور ہے۔(حضرت ابو شریح نے) پوچھا: وَالضَّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا كَانَ وَرَاءَ يا رسول اللہ ! مہمان نوازی کا کیا دستور ہے ؟ آپ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ۔وَمَنْ كَانَ نے فرمایا: ایک دن رات۔اور مہمان نوازی تین يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ دن تک بھی ہوتی ہے۔جو اس کے بعد ہو ، وہ اُس کے لئے صدقہ ہی ہوگا اور جو اللہ اور یوم آخرت پر خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ۔اطرافه: ٦١٣٥، ٦٤٧٦ - ایمان رکھتا ہو تو وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔باب ۳۲ : حَقُّ الْجِوَارِ فِي قُرْبِ الْأَبْوَابِ پڑوسی کا حق دروازوں کے قریب ہونے کے مطابق ٦٠٢٠ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَال :۲۰۲۰ حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: ابو عمران نے قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ مجھے خبر دی، کہا: میں نے طلحہ بن عبد اللہ بن قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي عثمان) سے سنا۔طلحہ نے حضرت عائشہ سے روایت جَارَيْنِ فَإِلَى أَيْهِمَا أُهْدِي قَالَ إِلَى کی۔وہ بیان کرتی ہیں : میں نے کہا: یا رسول اللہ !