صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 17
صحیح البخاری جلد ۱۴ 12 ۷۵ کتاب المرضى بہت پرانا دوست ہے۔تو فرماتا ہے: اتوا الزکوۃ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو اس کا پائیدار ذریعہ یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت کرو اور انہیں آرام پہنچانے کے لئے حتی المقدور اپنے تمام ذرائع عمل میں لاؤ۔جب تم ایسا کروگے تو خدا کہے گا کہ چونکہ یہ میرے پیاروں کی خدمت کرتا ہے اس لئے اسے بھی میرے پیاروں میں داخل کر لیا جائے۔اس کی تشریح بعض احادیث سے اس طرح معلوم ہوتی ہے (گوانجیل میں بھی اِس کا ذکر آتا ہے) کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض لوگوں سے کہے گا کہ دیکھو! میں بیمار تھا مگر تم لوگ میری عیادت کیلئے نہ آئے۔تب بندے کہیں گے اے ہمارے رب! تو کس طرح بیمار ہو سکتا تھا تو تو ہر قسم کے نقائص سے منزہ ہے۔تیراکام تو لوگوں کی بیماریوں کو دُور کرنا ہے تو خود کس طرح بیمار ہو سکتا تھا؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب میرے بندوں میں سے بعض لوگ بیمار تھے اور تم اُن کی عیادت کے لئے نہ گئے تو گویا میں ہی بیمار تھا مگر تم نے میری عیادت نہ کی۔پھر اللہ تعالیٰ اپنے اُن بندوں سے فرمائے گا کہ ایک دن میں سخت بھوکا تھا مگر تم نے مجھے کھانانہ کھلایا۔اس حدیث سے اتوا الزكوة کا مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔یعنی میرے پیاروں سے پیار کرو۔جب تم ایسا کرو گے تو میرا رنگ تم پر چڑھ جائے گا اور تم بھی میری صفات اپنے اندر جذب کر سکو گے۔“ (اسوہ حسنہ، انوار العلوم جلد اصفحہ ۶۳،۶۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرنا بہت ہی بڑی بات ہے اور خدا تعالیٰ اس کو بہت پسند کرتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ وہ اس سے اپنی ہمدردی ظاہر کرتا ہے۔عام طور پر دنیا میں بھی ایسا ہی ہو تا ہے کہ اگر کسی شخص کا خادم کسی اس کے دوست کے پاس جاوے اور وہ شخص اس کی خبر بھی نہ لے تو کیا وہ آقا جس کا کہ وہ خادم ہے اس اپنے دوست سے خوش ہو گا؟ کبھی نہیں، حالانکہ اس کو تو کوئی تکلیف اس نے نہیں دی، مگر نہیں۔اس نوکر کی خدمت اور اس کے ساتھ حسن سلوک گویا مالک کے ساتھ حسن سلوک ہے۔خدا تعالیٰ کو بھی اس طرح پر اس بات کی چڑ ہے