صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 410
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۱۰ ۷۸ - كتاب الأدب بَابِ ۲۸ : الْوَصَاةُ بِالْجَارِ ہمسایہ (سے سلوک کرنے) کے متعلق تاکید وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَا اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور تم اللہ کی عبادت کرو اور تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِلَی کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ قَوْلِهِ مُخْتَالًا فَخُورًا (النساء: ۳۷) (بہت) احسان (کرو) اور (نیز) رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اور (اسی طرح) رشتہ دار ہمسایوں اور بے تعلق ہمسایوں اور پہلو میں بیٹھنے) والے لوگوں اور مسافروں اور جن کے تم مالک ہو ( ان کے ساتھ بھی) (اور) جو متکبر اور اترانے والے ہوں انہیں اللہ ہر گز پسند نہیں کرتا۔٦٠١٤: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي :۲۰۱۴: اسماعیل بن ابی اولیس نے ہم سے بیان کیا، أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے یحی بن سعید بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ (انصاری) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ابو بکر مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ بن محمد نے مجھے خبر دی۔ابو بکر نے عمرہ سے، عمرہ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي فرمایا: جبریل مجھے ہمسایہ سے سلوک کرنے کی بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرَتُهُ۔ہمیشہ تاکید کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ میں نے یہ خیال کیا کہ عنقریب اس کو بھی وارث قرار دیں گے۔٦٠١٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ ۲۰۱۵: محمد بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ یزید حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ بن زُرَیج نے ہمیں بتایا۔عمر بن محمد نے ہم سے مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ بیان کیا۔انہوں نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ