صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 409 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 409

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۰۹ ۷۸ - كتاب الأدب اور اس میں ہر عمل نتیجہ خیز بتایا گیا ہے۔ ہر ذی روح کے ساتھ رحم اور شفقت کی تعلیم اس دور میں بھی پائی جاتی تھی جسے ہندو پر اچین کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ چنانچہ اس تعلیم کا نیک اثر قدیم ترین اقوام میں اب تک پایا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک پرند اور چرند کے لئے خوراک اور پانی مہیا کر نا بڑا کار ثواب ہے۔ فرماتا ہے: وفی أمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَ الْمَحْرُومِ ) ( الذاریات: ۲۰) یعنی مومنوں کے مالوں میں سائل اور محروم دونوں کا حق ہے۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح كتاب المَظَالِمِ وَالغَضَبِ، بَابُ الآبَارِ عَلَى الطرق، جلد ۴ صفحہ ۴۸۲، ۴۸۳) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وو مومنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر ایک کو اس کا حق ادا کریں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاريات: ع 1) که مومن کے اموال میں سائل اور محروم دونوں کا حق ہے۔ اُن کا بھی جو مانگ سکتے ہیں اور اُن کا بھی جو مانگ نہیں سکتے۔ جیسے کم گو اور گری ہوئی اقوام یا جانور وغیرہ ہیں۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں بھی اس امر کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ایک عورت کو محض اس لئے جنت میں داخل کیا گیا کہ اس نے پیاسے کتے کو پانی پلایا تھا۔ کے اسی طرح آپ نے فرمایا ہے: جانوروں پر رحم کیا کرو کیونکہ خدا نے ان کو تمہارے سپرد کیا ہے۔ تو روحانی تعلیم صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ جانوروں کے لئے بھی امن پیدا کرتی ہے۔“ (تفسیر کبیر ، سورة النازعات ، زیر آیت مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ، جلد ۸ صفحه ۱۳۵) الْمَحْرُوم کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بے زبان جانور بھی مراد لئے ہیں جو قوت گویائی سے محروم ہیں اور یہ لفظ سائل کے مقابل میں واقع ہوا ہے جو زبان سے اپنی حاجت ظاہر کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ فرماتے ہیں: ” بے زبانوں سے مراد کتے، بلیاں، چڑیاں، بیل، گدھے، بکریاں اور دوسری چیزیں ہیں۔“ (اسلامی صول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۷) اے (صحیح مسلم، کتاب السلام ، باب فضل ساقي البهائم )