صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 407
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۰۷ ۷۸ - كتاب الأدب لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ ہے کہ ایک کتا ہے جو ہانپ رہا ہے، پیاس کے مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ بِي فَنَزَلَ الْبِئْرَ مارے مٹی چاٹ رہا ہے۔ تو وہ شخص سمجھا: اس کتے فَمَلَأَ خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ فَسَقَى کا بھی پیاس سے وہی حال ہوا ہے جو میرا ہوا تھا۔ الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ اس پر وہ کنوئیں میں اُترا اور اُس نے اپنے موزے قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي کو بھرا۔ پھر اُس کو اپنے منہ میں پکڑا اور اس طرح الْبَهَائِمِ أَجْرًا فَقَالَ نَعَمْ فِي كُلِّ اُس نے کتے کو پلایا۔ اللہ نے اس کی قدر کی اور اس کے گناہوں کو بخش دیا۔ لوگوں نے کہا: یا رسول الله ! ذَاتِ كَبِدِ رَطْبَةٍ أَجْرٌ۔ أطرافه: ١٧٣، ٢٣٦٣، ٢٤٦٦- ان جانوروں سے حسن سلوک) میں بھی ہمیں ثواب ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ ہر تازہ کلیجے والے کی وجہ سے ثواب ہو گا۔ ٦٠١٠ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۲۰۱۰ : ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے خبر دی کہ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى حضرت ابو ہریرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ وَقُمْنَا مَعَهُ ساتھ کھڑے ہوئے۔ اتنے میں ایک گنوار جبکہ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ وہ نماز میں ہی تھا دعا کرنے لگا: اے اللہ ! مجھ پر رحم ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا کر اور محمد پر بھی اور ہمارے ساتھ کسی پر رحم نہ أَحَدًا۔ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ كيجيو۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ لَقَدْ آپ نے اس گنوار سے فرمایا: تم نے ایک وسیع چیز حَجَّرْتَ وَاسِعًا يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ۔ کو تنگ کیا ہے۔ آپ کی مراد (اس سے) اللہ کی رحمت تھی۔ ٦٠١١ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ٢٠١١: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا نے ہمیں زَكَرِيَّاءُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ بتایا۔ انہوں نے عامر سے روایت کی۔ زکریا نے