صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 406 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 406

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ابوقلابہ سے، ابو قلابہ نے حضرت ابو سلیمان مالک قَالَ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن حویرث سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم نبی وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم تقریباً ایک عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَظَنَّ أَنَّا اشْتَقْنَا ہی عمر کے نوجوان تھے۔ہم آپ کے پاس ہیں أَهْلَنَا وَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا راتیں رہے۔آپ نے خیال کیا کہ ہمیں اپنے گھر فَأَخْبَرْنَاهُ وَكَانَ رَقِيْقًا رَحِيمًا فَقَالَ والوں سے ملنے کا شوق ہوا ہے اور آپ نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جو ہم عزیزوں میں چھوڑ ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَعَلِمُوهُمْ آئے تھے۔ہم نے آپ کو بتایا اور آپ بہت ہی وَمُرُوهُمْ وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي نرم دل اور بہت ہی رحم کرنے والے تھے۔آپ أُصَلِّي وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِنْ نے فرمایا: تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ اور لَكُمْ أَحَدُكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ ان کو سکھاؤ اور ان سے بھی کہو (اچھے کام کریں) اور تم اس طرح نماز پڑھو جیسا کہ تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے کوئی تمہارے لئے اذان دے۔پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ تمہاری امامت کروائے۔أطرافه: ٦٢٨ ، ٦٣٠، ۶۳۱ ، ،۶۵۸، ۶۸۵، ۸۱۹، ٢٨٤٨، ٧٢٤٦ - ٦٠٠٩ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ٢٠٠٩: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان مَالِكٌ عَنْ سُمَةٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے سمئی سے جو أَبِي صَالِحِ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ابوبكر بن عبد الرحمن) کے غلام تھے، سمی نے أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو صالح سمان سے ، ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقِ اشْتَدَّ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ الْعَطَسُ فَوَجَدَ بِمْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فرمایا: ایک شخص راستے میں چلا جارہا تھا، اس کو فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثْ سخت پیاس لگی اور اس نے ایک کنواں پالیا۔اُس يَأْكُلُ الدَّرَى مِنَ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ میں اتر کر اس نے پانی پیا اور پھر باہر آگیا تو کیا دیکھتا