صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 405
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۰۵ ۷۸ - كتاب الأدب اُس کے جذبات کو تعمیری رُخ دینے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اور یہ بات اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک ان سے انتہائی احسان کا سلوک نہ کیا جائے۔اور یہ بات جہاں معاشرے میں محروم طبقے کو عزت دلوانے والی ہو گی وہاں معاشرے کے امن اور سلامتی کی بھی ضامن ہو جائے گی اور پھر یتیموں کی خبر گیری کرنے والے، مسکینوں کا خیال رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے پیار کے بھی مورد بنتے ہیں۔66 (خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده یکم جون، ۲۰۰۷ء، جلد ۵ صفحه ۲۲۸٬۲۲۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " مساکین سے وہ لوگ مراد ہیں جو کمائی نہیں کر سکتے اور جو دوسروں پر بوجھ بنے ہوئے ہوتے ہیں۔جب کسی قوم میں ایسے لوگ ہوں تو اُن کو دیکھ کر دوسروں کو بھی سوال کرنے کی عادت ہو جاتی ہے اور اُن کی غیرت مٹ جاتی ہے۔اگر ایک فنڈ ہو جس سے اُن کی مدد کی جائے تو قوم میں سوال کرنے کی عادت پیدا نہیں ہوتی۔اسلامی طریق یہی ہے کہ لوگوں کی ضروریات کو جہاں تک ہو سکے خود پورا کیا جائے اور جماعتی نظام اُن کا خیال رکھے اور ان کے مانگنے کے بغیر ہی ان کی ضرورت کو پورا کر دیا جائے اور جو لوگ بغیر ضرورت کے مانگیں اُن کی سفارش نہ کی جائے۔اس کے بغیر قوم کا تزکیہ نہیں ہو سکتا۔پھر مسکین خالی وہ شخص نہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو بلکہ مسکین وہ بھی ہے جو کوئی پیشہ تو جانتا ہو مگر اس کے پاس اتنار و پیہ نہ ہو کہ وہ ضروری آلات خرید سکے۔ایسے شخص کے متعلق بھی ضروری ہے کہ اُس کی مدد کی جائے اور اُسے اپنے فن سے تعلق رکھنے والی ضروری اشیاء اور آلات مہیا کئے جائیں۔اسی طرح جو بیوگان اور بتائی ہیں ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے۔“ " و ( تفسیر کبیر، سورة البقرة، زير آيت رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ ، جلد ۲ صفحه ۱۹۴) بَاب ۲۷ : رَحْمَةُ النَّاسِ وَالْبَهَائِمِ لوگوں اور جانوروں پر رحم کرنا ٦٠٠٨: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۰۰۸ مدد نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل نے ہم إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ سے بیان کیا۔ایوب نے ہمیں بتایا۔ایوب نے