صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 404 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 404

صحیح البخاری جلد ۱۴ م ۷۸ - كتاب الأدب یہی حقیقی اسلامی انقلاب ہے جس کی داغ بیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ہاتھوں سے رکھی گئی اور آپ کی قوت قدسیہ سے قیامت تک آنے والے آپ کے خلفاء کے ذریعہ یہ عالمگیر غلبہ برپا ہو گا۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یتیموں سے بھی احسان کا سلوک کرو کیونکہ یہ معاشرے کا کمزور طبقہ ہے۔پھر فرمایا: مسکینوں سے بھی حسن سلوک کرو۔یہ دونوں طبقے یعنی یتیم اور مسکین معاشرے کے کمزور ترین طبقے ہیں، اُن کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔اگر اُن پر ظلم ہو رہا ہے تو اُن کے خلاف کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہوتا۔اور پھر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ یہ کمزور طبقے رد عمل کے طور پر پھر فساد کی وجہ بنتے ہیں اور فساد کی وجہ اس طرح ہے کہ پہلے چھوٹی چھوٹی باتوں اور برائیوں میں ملوث ہوتے ہیں، اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔پھر مفاد اُٹھانے والے گروہ ان لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔معاشرے کے خلاف ان کے ذہنوں میں زہر بھرتے ہیں۔ایسا مایوس طبقہ جس کے حقوق رڈ کئے گئے ہوں پھر یہ جائز سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی وہ اپنا حق لینے کے لئے کر رہا ہے ، وہ جو مرضی چاہے حرکتیں کر رہا ہو وہ ٹھیک کر رہا ہے۔اس کو یہ خیال ہوتا ہے کہ اس کے یہ ہمدرد ہی اُس کے خیر خواہ ہیں جو حقیقت میں اُس کو معاشرے میں فساد پھیلانے کے لئے استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔غریب ملکوں میں اگر جائزہ لیں تو ایسے یتیم جن کے خاندانوں نے ، ان کے عزیزوں نے اُن کا خیال نہیں رکھا یا اس حیثیت میں نہیں کہ خیال رکھ سکیں ، خود بھی غربت نے انہیں پیسا ہوا ہے، ایسے محروم بچے پھر تربیت کے فقدان کی وجہ سے بلکہ مکمل طور پر جہالت میں پڑ جانے کی وجہ سے تعمیری کام نہیں کر سکتے اور پھر ان لوگوں کے ہاتھ میں چڑھ جاتے ہیں جو اُن سے ناجائز کام کرواتے ہیں۔۔۔پس اس فساد سے بچنے کے لئے یہ معاشرے کا کام ہے اور وقت کی حکومت کا کام ہے کہ ایسے طبقے کو سنبھالیں ، انہیں دھتکارنے کی بجائے انہیں سینہ سے لگائیں، اُن کو جذباتی چوٹیں پہنچانے کی بجائے زیادہ بڑھ کر اُن کے جذبات کا خیال رکھیں کیونکہ یہ کمزور طبقہ جذباتی طور پر بہت حساس ہوتا ہے۔معاشرے کو