صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 403
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب آج کل بھی۔کسی بچی نے مجھے لکھ دیا لیکن ہر بچی مجھے لکھا تو نہیں کرتی۔مگر ایسے ماں باپ بہت ہیں دنیا میں۔“ خطبه جمعه فرموده ۱۱، فروری ۲۰۰۰، مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل ۲۴ تا ۳۰ مارچ ۲۰۰۰، صفحه ۷) باب ٢٦: السَّاعِي عَلَى الْمِسْكِينِ مسکین کے لئے کمانے والا ٦٠٠٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۶٠٠٧: عبد اللہ بن مسلمہ ( قعنبی) نے ہم سے حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ثور أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّه بن زید سے، ٹور نے ابوالغیث سے، ابوالغیث نے عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيل فرمایا: بیوہ اور مسکین کے لئے کمانے والا اس شخص اللهِ۔وَأَحْسِبُهُ قَالَ يَشُكُ الْقَعْنَبِيُّ کی طرح ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو۔قعنبی (اس میں شک کرتے ہوئے کہتے ) ہیں: اور كَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ وَكَالصَّائِمِ لَا میں سمجھتا ہوں کہ (مالک نے) کہا کہ (آپ نے یہ بھی فرمایا:) وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھڑا يُفْطِرُ۔اطرافه: ٥٣٥٣، ٦٠٠٦۔عبادت کرتا رہتا ہے اور تھکتا نہیں اور اس روزہ دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا۔الشاعى على المسكين: مسکین کے لئے کمانے والا۔بندے کا اپنے خالق و مالک کی عبادت کرنا ایک بہت قابل قدر عمل ہے مگر اس کے یہ مجاہدات اگر اپنی ذات تک ہی محمد و در ہیں اور خالق کی طرف اس کا یہ سفر اسے مخلوق سے دور کرتا جائے تو وہ انسان اپنی معراج کو کبھی نہیں پاسکتا کیونکہ معراج حقیقی وہی ہے جو دنا فتدلی (النجم : 9) - کا مظہر ہے۔انسانی معاشرہ کے بعض طبقات کو اگر سنبھالا نہ جائے اور اُن کے حقوق ادا نہ کئے جائیں تو وہ محرومیوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے بسا اوقات اپنی محرومیوں کے رد عمل میں معاشرہ کے لئے ناسور بن جاتے ہیں۔اس لئے ان طبقات کو ساتھ لے کر چلنا، اُن کو قعر مذلت سے نکالنا بہت بڑا جہاد ہے اور ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " پھر وہ نزدیک ہوا۔پھر وہ نیچے اتر آیا۔“