صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 16 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 16

صحیح البخاری جلد ۱۴ 14 ۷۵ کتاب المرضى اس سے ظاہر ہے کہ آپ اپنوں سے بھی بڑھ کر ہمدردی کے ساتھ مریض کی عیادت کیا کرتے تھے۔چھوٹی موٹی تکلیفیں تو انسان کو لگی رہتی ہیں اُس میں بھی آپ پوچھا کرتے تھے جب کسی سے رابطہ ہو تا۔لیکن اگر دو تین دن سے زیادہ کوئی بیمار ہوتا اور آپ کے علم میں یہ بات آتی تو آپ فوراً اس کی عیادت کے لئے جاتے اور اس کے لئے دعا کرتے۔چنانچہ اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے تین دن سے زائد بیمار رہنے کی صورت میں اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔جیسا کہ پہلی روایت میں آتا ہے کہ آپ سے بڑھ کر کوئی عیادت کرنے والا نہیں تھا۔جب آپ اتنے پیار اور محبت سے مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے ہوں گے تو مریض کی آدھی بیماری تو اس وقت خود ہی دور ہو جاتی ہو گی۔عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کو توجہ سے دیکھ لے، اس کی بات غور سے سن لے تو اس مریض کی آدھی بیماری دور ہو جاتی ہے۔اور وہی ڈاکٹر ان کو پسند آتے ہیں جو اس طرح ان کو توجہ سے دیکھ بھی رہے ہوں اور ان کی باتیں بھی سن رہے ہوں۔تو جو سب طبیبوں سے بڑھ کر اور سب ڈاکٹروں سے بڑھ کر طبیب ہے اس کے آنے سے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مریض بہتری محسوس نہ کر رہا ہو۔جو انتہائی توجہ سے مریض کی بات کو بھی سنتا تھا اس کے لئے دعا بھی کرتا تھا۔“ (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۱۵ / اپریل ۲۰۰۵، جلد ۳ صفحه ۲۳۳، ۲۳۴) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دنیا میں بہترین ذریعہ کسی کی محبت حاصل کرنے کا یہ ہوتا ہے کہ اس کے کسی عزیز سے محبت کی جائے۔ریلوے سفر میں روزانہ یہ نظارہ نظر آتا ہے پاس بیٹھے ہوئے دوست کے بچہ کو ذرا پچکار دیں یا اُسے کھانے کیلئے کوئی چیز دے دیں تو تھوڑی دیر کے بعد ہی اس کا باپ اس سے محبت سے باتیں کرنے لگ جاتا ہے کہ گویا وہ اس کا (سنن ابن ماجه ،کتاب الجنائز، باب ما جاء فى عيادة المريض)