صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 402
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۰۲ ۷۸ - كتاب الأدب ریح : السَّاعِي عَلَى الْأَرملة: بیواؤں کے لئے کمانے والا۔سعی کے معنی ہیں کسی کام کی کوشش کرنا۔سَعَى لِعِیاله یعنی بال بچوں کے لئے روزی کمانا۔(قاموس الوحيد- سعى) أَرْمَلَ الْمَرْأَةُ : عورت کے خاوند کا مر جاتا، بیوہ ہو جانا۔(قاموس الوحید) آداب معاشرہ میں سے یہ بہت اہم ادب ہے کہ معاشرہ میں بیوہ کو تحفظ دیا جائے، اس کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے اس کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور اس پر کسی کے احسان کا کوئی بوجھ نہ ہو بلکہ جس طرح ایک مجاہد اور ایک عابد اور صائم خالصہ اللہ یہ نیکیاں بجالاتا ہے اسی طرح بیوہ کی کفالت خالصہ اللہ ہو اور بے لوث ہو۔اور اگر بیوہ اپنی بیٹی، بہن یا قریبی عزیزہ ہو تو اس کی جملہ ضروریات پوری کرنانہ صرف اس کی بیوگی کا تقاضا ہے بلکہ صلہ رحمی کا بھی تقاضا ہے۔حضرت سراقہ بن مالک بیان کرتے ہیں : أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفَضَلِ الصَّدَقَةِ؟ ابْنَتُكَ مَرْدُونَةً إِلَيْكَ ، لَيْسَ لَهَا كَاسِبُ غَيْرُكَ - حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین صدقہ کے بارہ میں نہ بتاؤں ؟ تمہاری مطلقہ یا بیوہ بیٹی جس کا تمہارے سوا اور کوئی کمانے والا نہ ہو اُس کی ضروریات کا خیال رکھنا بہترین صدقہ ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اب یہ بہت ہی اعلیٰ درجہ کی نصیحت ہے۔کئی لوگ اپنی مطلقہ یا بیوہ بیٹیوں کا خیال نہیں کرتے۔مگر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سب سے زیادہ تمہارے صدقہ یعنی تمہاری طرف سے حسن و احسان کی محتاج ہیں اور حقدار ہیں۔اُن کی ضروریات کا خیال رکھنا بہترین صدقہ ہے۔ایک طرف تو یہ نصیحت ہے ماں باپ کو کہ وہ اپنی مطلقہ اور بیوہ بیٹیوں کا بھی خیال رکھیں ، اُن پر ہر طرح سے خرچ کریں۔اور دوسری طرف بعض بچیاں شکایت کرتی ہیں جو بالکل برعکس معاملہ ہے۔ایک بچی نے بڑا ہی دردناک خط لکھا ہے۔وہ لکھتی ہیں کہ میں تو بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہوں اور ماں باپ میری کمائی کھا رہے ہیں اور میری کمائی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔اور یہ دیکھیں کتنا بڑا ظلم ہے۔بالکل برعکس معاملہ ہے، بجائے اس کے کہ اپنی بچیوں کو پالیں جو ضرورت مند ہوں ، وہ اُلٹا ان کی کمائی پر بیٹھے براجمان ہیں اور اُن کی کمائیاں کھا رہے ہیں اور یہ دیکھتے نہیں کہ ان کی زندگی خراب ہو رہی ہے، مستقبل خراب ہو رہا ہے۔تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عقل دے۔ایسے لوگ واقعہ ملتے ہیں ا (سنن ابن ماجه، ابواب الادب، باب بر الوالد والاحسان الى البنات)