صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 400
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب یتیم کی کفالت وہ عمل ہے جو ایک مؤمن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقرب بناتا ہے۔آپ کی معیت اور قرب اُسے ہی نصیب ہو گا جو آپ کا ہم رنگ اور آپ کی صفات کا مظہر ہو گا۔۳۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اصل کافل الیتیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔۴ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یتیم کی کفالت کا درد پیدا کیا اور اُس کے ساتھ عملی زندگی میں آپ یتیمی کے حالات سے گزرے۔اس لئے آپ یتیمی کے درد کو خوب سمجھتے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: یتیم کی پرورش کرنے والے کا یہ مقام ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے جنت کی خوشخبری دی ہے اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے والے کو ، اُس کا خیال رکھنے والے کی نیکیوں کو اس بچے کے سر کے بالوں کے برابر شمار کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تو اس بات پر لڑتے تھے اور حریص رہتے تھے کہ یتیم کی پرورش کریں۔اور اگر کوئی یتیم ہوتا تو ایک کہتا کہ میں اس کی پرورش کروں گا اور دوسرا کہتا کہ میں اس کی پرورش کروں گا، تیسرا کہتا کہ میں اس کی پرورش کروں گا اور اس بات پر وہ لوگ حریص تھے کہ جنت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جگہ ملے۔وہ جب یتیموں کو پالتے تھے تو بڑے احسن رنگ میں ان کی تربیت کرتے تھے۔اپنے بچوں کی طرح ان کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھتے تھے۔" خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۱۹، فروری ۲۰۱۰، جلد ۸ صفحه ۱۰۶) نیز فرمایا: ایک روایت حضرت عبد اللہ بن عباس سے ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین یتیموں کی کفالت کی وہ اُس شخص کی طرح ہو گا جو قائم باللیل اور صائم النہار ہو اور اُس نے صبح شام اللہ تعالیٰ کی راہ میں تلوار سونتے ہوئے گزاری ہو ، میں اور وہ دونوں جنت میں دو بھائیوں کی طرح ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ہیں اور آپ نے اپنی شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کو باہم ملایا۔پس جو یتیم کی کفالت کرنے والے ہیں اُن کا مقام ایسا ہی ہے جیسے وہ راتوں کو اُٹھ کر تہجد پڑھنے والے ہیں اور روزے رکھنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں (سنن ابن ماجه، كتاب الأدب، باب حق اليتيم ، حدیث : ۳۶۸۰)