صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 399
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۹۹ ۷۸ - كتاب الأدب باب ٢٤ : فَضْلُ مَنْ يَعُولُ يَتِيمًا اس شخص کی فضیلت جو ایک یتیم کی پرورش کرے ٦٠٠٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۰۰۵ : عبد اللہ بن عبد الوہاب نے ہم سے بیان عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ کیا، کہا : عبد العزیز بن ابی حازم نے مجھے بتایا۔ کہا: بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ میں نے حضرت سہل بن سعد سے ابن سعد سے سنا۔ حضرت سہل صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا وَكَافِلُ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا وَقَالَ نے فرمایا: میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى۔ میں اس طرح ہوں گے۔ اور حضرت سہل نے کہا: آپ نے اپنی دو انگلیوں یعنی کلمے کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔ طرفه: ٥٣٠٤۔ تشريح : فَضْلُ مَنْ يَعُولُ يَتعا: اس شخص کی فضیلت جو ایک یتیم کی پرورش کرے۔ کفالت کے معنی ہیں: ذمہ داری، ضمانت، ضامنی، بار اُٹھانا۔ (فیروز اللغات) كفالة: کسی کا ضامن ہونا، کفیل و ذمہ یل و ذمہ دار ہونا۔ الكَفَالَة : ضمانت، گار ، گارنٹی، ذمہ داری، پرورش ) ورش (قاموس الوحید) عنوان باب میں یتیم کی کفالت کرنے والے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ لغت کی رُو سے کفالت میں یتیم کی جملہ ضروریات پوری کرنے اور اس کے ضامن بننے کے معنے پائے جاتے ہیں۔ ان معنوں سے کفالت کے مضمون کی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔ اس میں یتیم کی جسمانی، اخلاقی، روحانی، علمی اور عملی، سب ضرورتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ علمی کفالت میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیئے کہ جس طرح ایک انسان اپنی توفیق اور وسائل کے مطابق اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے کالجز اور یونیورسٹیز کا انتخاب کرتا ہے، یتیم بچوں کو بھی اس معیار کی تعلیم دلوائے نہ کہ معمولی حیثیت کے ان مذہبی مدارس میں یتیم بچوں کو داخل کرائے جن کی نہ ڈگری کی دنیا میں کوئی ویلیو ہے اور نہ معاشرے میں ان اداروں کے فارغ التحصیل طلباء کا کوئی مقام اور حیثیت ہے۔ جبکہ اسلام نے اس ذمہ داری کو کما حقہ پورے کرنے والے کا انعام اور درجہ یہ بتایا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب پانے والا ہو گا اور آپ خدا تعالیٰ کے سب سے مقرب اور پیارے ہیں۔ اس لئے لا محالہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کا مقرب اور پیارا بن جائے گا۔ زیر باب حدیث میں بتایا گیا ہے کہ