صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 395 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 395

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۹۵ ۷۸ - كتاب الأدب كَذَا وَكَذَا فَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي ابو عثمان نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تو ) میرے عُثْمَانَ فَنَظَرْتُ فَوَجَدْتُهُ عِنْدِي دل میں اس کے متعلق کچھ شک پیدا ہوا۔میں نے مَكْتُوبًا فِيمَا سَمِعْتُ۔کہا: میں نے تو اس حدیث کو یوں یوں بیان کیا ہے مگر میں نے ابو عثمان سے یہ نہیں سنا۔تو میں نے غور سے دیکھا اور اس حدیث کو اپنے پاس لکھا ہوا أطرافه ٣٧٣٥ ٣٧٤٧۔ویسے ہی پایا جیسے میں نے سنا۔تشریح۔وَضْعُ الصَّبِيَّ عَلَى الْفَخِلِ: یعنی بچے کو ران پر بٹھانا۔عرب کے معاشرہ میں غلاموں کی حالت جانوروں سے بد تر تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے غلام تمہارے بھائی بند ہیں۔اور اپنے اسوہ سے ان کو کھانے پینے اور پہنے وغیرہ تمام معاشرتی امور میں برابری اور عزت کا مقام دیا اور اس قدر اپنائیت اور محبت دی کہ ان کے بچوں سے اپنے بچوں جیسا سلوک فرمایا۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ” اپنے لاڈلے نواسے اور اُسامہ میں کوئی تخصیص نہیں کی۔یہ نہیں دیکھا کہ یہ غلام کا بیٹا ہے۔ایک غریب آدمی کے بچے کو بھی وہی مقام دیا جو اپنے نواسے کو۔پھر دونوں کے لئے دعا بھی ایک طرح کے جذبات کے ساتھ کی۔ظاہری طور پر ایک طرح کا سلوک بعض لوگ کر لیتے ہیں لیکن اگر دعا میں فرق بھی ہو جائے تو کوئی اعتراض کی گنجائش نہیں ہوتی۔لیکن آپ تو اُسوہ کامل تھے اور جو اُسوہ کامل ہو ، وہی اتنی گہرائی میں جاکر دوسروں کا خیال رکھ سکتا ہے کہ دعا تک میں فرق نہیں کرتا۔“ خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده ۱۷، دسمبر ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۹۱۴٬۹۱۳) باب ۲۳: حُسْنُ الْعَهْدِ مِنَ الْإِيمَانِ دوستی کے زمانے کو اچھی طرح یادرکھنا بھی ایمان سے ہی ہوتا ہے ٦٠٠٤ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۲۰۰۴: عبيد بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: