صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 393 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 393

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۹۳ ۷۸ - كتاب الأدب اس آیت میں جو خطا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔گو اس کا مادہ اور خطا کا مادہ ایک ہی ہے لیکن خط جوخ کی زیر کے ساتھ ہے اس کے معنوں اور خطا جس میں خ پر زبر ہے اس کے معنوں میں فرق کیا جاتا ہے۔خطا کے معنے الاثم ما تعمّد منہ کے ہیں اور خطا کے معنے مالم يتعمد منه او تعمد کے ہیں۔یعنی اگرخ پر فتح یعنی زبر ہو تو دیدہ دانستہ گناہ اور نادانستہ قصور ، دونوں معنوں میں مستعمل ہوگا اور اگرخ کے نیچے کسرہ یعنی زیر ہو تو اس سے مراد صرف وہ گناہ ہو گا جس میں ارادہ پایا جائے۔اس لفظ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اولاد کا قتل ایک ایسا جرم ہے کہ جس کو فطرت بھی رڈ کرتی ہے۔یعنی جس کے احساسات طبعی مر چکے ہوں وہی ایسا فعل کر سکتا ہے، دوسر ا نہیں کر سکتا۔اِنَّهُ كَانَ خِطاء كَبِيراً کے الفاظ بھی بتاتے ہیں کہ یہاں وہ قتل مراد نہیں جو زہر یا آلہ سے کیا جاتا ہے۔کیونکہ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ قتل کثرت سے پایا جاتا ہے۔مگر اپنے ہاتھوں بچوں کا قتل ہر گز کسی ملک میں بھی ایسے رنگ میں نہیں پایا جاتا کہ اسے قومی جرم قرار دیا جائے۔۔۔اس آیت میں نَحْنُ نَرزُقُهُمْ وَ اِيَّاكُمُ فرما کر اس امر پر زور دیا ہے کہ انسان کے رزق میں اس کی اولاد کا رزق شامل ہے۔پس اُس سے محروم نہیں کرنا چاہیئے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ بنی اسرائیل، زیر آیت وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ امْلاق ، جلد ۴ صفحه ۳۲۶ تا ۳۲۸) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بڑا مشرک ہوں اگر اپنی اولاد کی نسبت میں یہ خیال کروں کہ ان کا گزارہ میرے مال پر موقوف ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے: وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ - جب رزق دینے کا خدا وعدہ کرتا ہے تو مجھے کیا فکر ہے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۲ صفحہ ۵۳۳) بَاب ۲۱: وَضْعُ الصَّبِيِّ فِي الْحِجْرِ بچے کو گود میں رکھنا ٦٠٠٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۲۰۰۲: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحی بن