صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 392 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 392

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۹۲ ۷۸ - كتاب الأدب مثلاً بیوی کی خوراک اور مناسب لباس کا خیال نہ رکھنا یا دودھ پلانے یا ایام حمل میں اس پر کام کا بہت بوجھ ڈال دینا۔ یہ سب اُمور ہیں جن سے اولاد پر برا اثر پڑتا ہے۔ اور یا تو بچے ضائع ہو جاتے ہیں یا ان کی صحتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ لا تَقْتُلُوا کے الفاظ میں ان سب امور کی مناہی آجاتی ہے اور یہ غرض دوسرے الفاظ سے پوری نہ ہو سکتی تھی۔ اس آیت کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں جو بعض صوفیاء کرتے ہیں کہ اولاد کی پیدائش کو صرف اس خطرہ سے روکنا منع ہے کہ اگر اولاد زیادہ ہو جائے گی تو پھر کھائے گی کہاں سے۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اولاد کی پیدائش بند کرنا قتل اولاد کے حکم میں ہے اور قتل اولاد ہر حال میں منع ہے اور بُرا ہے۔ تو معنے یہ ہوئے کہ اطلاق کی وجہ سے قتل اولاد (یعنی اس کی پیدائش کو روکنا منع ہے۔ البتہ بعض اور صورتوں میں جائز بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً عورت بیمار ہو ، اُس وقت جائز ہو گا کہ اولاد پیدا کرنا بند کر دے کیونکہ جس چیز کی وجہ سے قتل اولاد کو روکا گیا ہے وہ غیر محسوس ہے۔ ایسی وجہ کی بناء پر اولاد کی پیدائش کو روکنا نا جائز ہے لیکن کسی محسوس اور مشاہد نقصان کی وجہ سے اولاد کی پیدائش کو روکنا منع نہیں۔ علاوہ پیدائش میں روک ڈالنے کے جو بچہ بن چکا ہو بعض حالات میں اُس کا مارنا بھی جائز ہوتا ہے۔ مثلا کسی حاملہ عورت کے متعلق زچگی کے وقت یہ شبہ ہو کہ اگر بچہ کو طبعی طور پر پیدا ہونے دیا گیا تو والدہ فوت ہو جائے گی۔ اس صورت میں بچہ کو ضائع کر دینا جائز ہے کیونکہ بچہ کے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ وہ مردہ پیدا ہو گا یا زندہ، یا زندہ رہے گا یا نہیں، مگر ماں سوسائٹی کا ایک مفید وجو د ہے۔ اس لئے وہمی نقصان سے حقیقی نقصان کو زیادہ اہمیت دی جائے گی اور بچہ کو تلف کر دیا جائے گا۔ غرض لا تَقْتُلُوا کے الفاظ استعمال کرنے کے بعد خَشْيَةَ امْلاق کی شرط لگا کر قرآن کریم نے اولاد کی تربیت، اس کی پرورش ، ماں کی پرورش اور اُس کی زندگی کی قیمت کے متعلق ایک وسیع مضمون بیان کیا ہے اور ایسے مختصر الفاظ میں کہ اس کی سری کتاب میں نہیں مل سکتی۔ بلکہ حق یہ ہے کہ یہ مضمون ایسا اچھوتا۔ ہے کہ مثال دوسری کسی مذہبی کتاب نے اسے چھوا تک نہیں۔