صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 391
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۹۱ ۷۸ - كتاب الأدب وہ بھی اولاد کو نہیں مارتے۔پس معلوم ہوا کہ اس قتل کا کوئی اور مفہوم ہے اور ہمیں انسانوں میں اس جرم کی تلاش کرنی چاہیئے۔سو جب ہم مختلف انسانوں کی حالتوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ بخل کی وجہ سے اولاد کی صحیح تربیت نہیں کرتے، پوری غذا نہیں دیتے یا ایسی غذا نہیں دیتے جو نشو و نما کے لئے ضروری ہو۔ایسے بخیل تو بے شک فاتر العقلوں میں ہی ملتے ہیں جو زہر سے یا گلا گھونٹ کر اپنی اولاد کو اس خوف سے مارتے ہوں کہ ان پر ہماری دولت خرچ ہو گی۔مگر ایسے بخیل عام صحیح الدماغ لوگوں میں کثرت سے ملتے ہیں کہ پاس روپیہ ہے لیکن بچوں کو بخل کی وجہ سے اچھی غذا نہیں دیتے۔لباس مناسب نہیں دیتے، حتی کہ بعض دفعہ وہ خوراک کی کمی کی وجہ سے بیمار ہو جاتے ہیں، بعض دفعہ لباس کی کمی کی وجہ سے نمونیہ وغیرہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس قسم کے لوگ دنیا میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ملتے ہیں اور ہر ملک میں ملتے ہیں۔اسی طرح قتل سے مراد اخلاقی اور روحانی قتل بھی ہو سکتا ہے کہ روپیہ کے خرچ کے ڈر سے اچھی تعلیم نہیں دلاتے اور گویا بچہ کی اخلاقی یا روحانی موت کا موجب ہو جاتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو نصیحت کرتا ہے کہ اس فعل سے اجتناب کریں اور وہ اخراجات جو بچوں کی صحت اور اخلاق کی درستی کے لئے ضروری ہیں اُن سے کبھی دریغ نہ کیا کریں۔اور قتل کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ اولاد کو قتل کرنے سے انسان فطر تا تنفر کرتا ہے۔پس اس لفظ کے استعمال سے اس کی توجہ اس طرف پھیرائی ہے کہ تم کسی صورت میں بھی اولاد کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنے پر تیار نہیں ہوتے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ایک اور قسم کے قتل کے تم مرتکب ہو رہے ہو، یعنی اولاد کی خوراک اور لباس کا خیال نہیں رکھتے اور ان کی صحتوں کو برباد کر دیتے ہو ، یا اُن کی تربیت کا خیال نہیں رکھتے اور ان کے اخلاق کو برباد کر دیتے ہو۔قتل کا لفظ استعمال کرنے کی میرے نزدیک یہ بھی وجہ ہے کہ اگر صرف یوں کہا جاتا کہ اولاد پر ضرور خرچ کیا کرو۔تو ان الفاظ میں ان بالواسطہ اثرات کی طرف اشارہ نہ ہو تاجو اولاد کی زندگی پر پڑتے ہیں۔لیکن ان الفاظ کے استعمال نے تمام بالواسطہ تاثیرات کو بھی اپنے اندر شامل کر لیا ہے۔