صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 390 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 390

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۹۰ ۷۸ - كتاب الأدب جَارِكَ۔ وَأَنْزَلَ اللهُ تَصْدِيقَ قَوْلِ النَّبِيِّ کے بعد کونسا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے بچے کو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ لَا اس ڈر سے مار ڈالے کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهَا آخَرَ ( الفرقان: ٦٩) گا۔ پوچھا: اس کے بعد کونسا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ اور اللہ نے نبی الآية۔ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی: اور وہ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔ أطرافه: ٤٤٧٧، ٤٧٦١، ٦٨١١، ٦٨٦١، ٧٥٢٠، ٧٥٣٢۔ ا تشريح : قَتْلُ الْوَلَدِ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَهُ: یعنی بچے کو مارڈالا اس اندیشہ سے کہ کہیں وہ اس کے ساتھ نہ کھائے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةً إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ إِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطاً قَتْلَهُمْ كَانَ خِطاً كَبِيرًا (بنی اسرائیل: ۳۲) یعنی اور تم مفلسی کے خ کے خوف سے اپنی اولاد کو اپنی اولاد کو قتل مت کرو، انھیں (بھی) ہم ہی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی ہم ہی دیتے ہیں) انہیں قتل کرنا یقینا (بہت) بڑی خطا ہے۔ (ترجمه تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” اس خوف سے کہ اولاد پر روپیہ خرچ ہو گا ان کو ہلاک نہ کرو۔ یہ حکم لڑکیوں کے قتل کرنے کے متعلق نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم میں لڑکیوں کے قتل کی کسی جگہ بھی یہ وجہ بیان نہیں فرمائی کہ لوگ خرچ کے ڈر سے ان کو قتل کر دیتے ہیں بلکہ یہ وجہ بتائی ہے کہ ان کی پیدائش کو اپنے لئے ذلت کا موجب سمجھتے ہیں اس لئے ان کو مار ڈالتے ہیں۔ اسی طرح اس آیت کے یہ معنے بھی نہیں ہو سکتے ہیں کہ بوجہ غربت اور تنگی کے اولاد کو قتل نہ کرو۔ کیونکہ اطلاق کے معنی غربت اور تنگی کے نہیں ہیں بلکہ اس کے معنے مال کے خرچ ہونے کے ہیں۔ اور آیت کے یہ معنے ہیں کہ اس ڈر سے نہ مارو کہ روپیہ خرچ ہو گا۔ اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ڈر سے کہ روپیہ خرچ نہ ہو کوئی اولاد کو کو قتل کرتا بھی ہے؟ ہے ؟ سو جہاں تک دنیا دنیا کا تجربہ ہے اس قسم کے واقعات صحیح الدماغ لوگوں میں تو ملتے نہیں۔ بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جن کے پاس روپیہ نہیں ہوتا