صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 389
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۸۹ ۷۸ - كتاب الأدب بَاب ۱۹ : جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْء اللہ نے رحمت کے سو حصے کئے ہیں ٦٠٠٠: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ۶۰۰۰: حکم بن نافع بہرانی نے ہم سے بیان کیا کہ الْبَهْرَانِيُّ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِیِ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا روایت کی۔ سعید بن مسیب نے ہمیں خبر دی کہ هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى حضرت ابو ہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ جَعَلَ الله علیہ وسلم سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: اللہ نے رحمت الرَّحْمَةَ فِي مِائَةَ جُزْءٍ فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ کے سو حصے کئے ہیں۔ اُس اُس۔ نے اپنے پاس ننانوے حصے رکھے ہیں اور زمین میں ایک ہی حصہ نازل کیا تِسْعَةً وَتِسْعِينَ جُزْءًا وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ ہے۔ اس ایک حصہ کی وجہ سے ہے جو مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے یہاں تک کہ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ ایک گھوڑی بھی اپنے سم کو اپنے بچے سے اس ڈر حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ سے اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس کو صدمہ نہ پہنچے۔ طرفه: ٦٤٦٩- بَاب ۲۰ : قَتْلُ الْوَلَدِ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَهُ بچے کو مار ڈالنا اس اندیشہ سے کہ کہیں وہ اس کے ساتھ نہ کھائے ٦٠٠١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ٢٠٠١: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ سے، منصور نے ابو وائل سے، ابو وائل نے عمرو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّ بن شرحبیل سے، عمرو نے حضرت عبداللہ (بن الذَّنْبِ أَعْظَمُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا مسعود) سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: میں نے وَهُوَ خَلَقَكَ۔ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ أَنْ کہا : یا رسول اللہ ! کونسا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ۔ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کا مد مقابل ٹھہر او حالانکہ قَالَ ثُمَّ أَيُّ قَالَ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ اُس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پھر پوچھا: اس