صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 388 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 388

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۸۸ ۷۸ - كتاب الأدب رَحْمَةُ الْوَلَدِ وَتَقْبِيلُهُ وَمُعَانَقَتُهُ: یعنی بچہ پر شفقت کرنا، اس کو بوسہ دینا اور اس کو گلے لگانا۔بچوں سے پیار اور محبت اللہ تعالیٰ نے انسان تو انسان جانوروں کی بھی فطرت میں رکھا ہے۔ایک حدیث میں ذکر ہے کہ گھوڑی اپنے چھوٹے نو مولود پر غلطی سے بھی پاؤں آنے لگے تو اپنا پاؤں اُوپر اُٹھا لیتی ہے۔یہ اسی فطرتی محبت کا نتیجہ ہے۔انسانی معاشرے جب بگڑتے ہیں اور اخلاقی قدروں کے ساتھ ساتھ فطری اور جبلی اخلاق بھی معدوم ہونے لگتے ہیں تو وہ معاشرہ انسانی معاشرہ نہیں بلکہ حیوانوں سے بھی بد تر معاشرہ بن جاتا ہے۔یہی حال عرب کے اس معاشرے کا تھا جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے۔ان عربوں کی اخلاقی حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے: إِنْ هُمْ إِلا كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا (الفرقان: ۴۵) که وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو گئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قعر مذلت اور پستی سے اُٹھایا اور اس اوج ثریا تک پہنچا دیا کہ أَصْحَابِي كَالنُّجُوم کا مقام پانے والے وہ خدا انما وجود بن گئے۔زیر باب روایات میں عربوں کی اسی حالت کو بیان کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: "آجکل شاید اس بات کو کوئی اتنا محسوس نہ کرے لیکن عرب معاشرے کا جن کو پتہ ہے وہ جانتے ہیں کہ ان کی طبیعتوں میں کتنا اکھڑ پن تھا، کتنی کر جنگی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے شاذ ہی کوئی انسان اپنے بچوں سے پیار کا سلوک کرتا کا تھا۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچوں کو پیار کر رہے تھے۔ایک شخص آیا۔بڑی حیرانگی سے پوچھنے لگا کہ آپ بچے کو پیار کر رہے ہیں۔آپ نے فرمایا : ہاں۔کہتا ہے کہ میرے تو دس بچے ہیں میں نے تو آج تک کسی کو پیار نہیں کیا۔آپ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل کے اندر سختی بھری ہوئی ہے تو میں اس پر کیا کر سکتا ہوں۔“ (خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده ۲۶ جنوری ۲۰۰۷، جلد ۵ صفحه ۳۴) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: " کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب لڑکوں کی طرف راستہ میں دیکھا کرتے تھے تو اتنی شفقت کیا کرتے تھے کہ وہ لڑکے سمجھا کرتے کہ یہ ہمارا باپ ہے۔( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۳۷۱ ا (صحيح البخاری، کتاب الادب، باب جَعَلَ الله الرحمةَ مِائَةَ جُزءٍ، روایت نمبر ۲۰۰۰)