صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 387
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۸۷ ۷۸ - كتاب الأدب وَسَلَّمَ فَقَالَ تُقَتِلُونَ الصَّبْيَانَ فَمَا اعرابي نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے نُقَبِّلُهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لگا: آپ بچوں کو پیار دیتے ہیں۔ہم تو کبھی پیار نہیں وَسَلَّمَ أَوَأَمْلِكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللهُ مِنْ دیتے۔نبی صلی الم نے فرمایا: کیا میں تمہارے لئے قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ۔کچھ کر سکتا ہوں؟ اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحمت کو نکال لیا ہو۔٥٩٩٩ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ :۵۹۹۹ (سعید) ابن ابی مریم نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ ابو غسان ( محمد بن مطرف) نے ہم سے بیان کیا۔بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْن ابو غسان نے کہا: زید بن اسلم نے مجھ سے بیان کیا۔الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ زید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں سَبْيْ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِّنَ السَّنِي تَخْلُبُ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی ثَدْيَهَا تَسْقِي إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي آئے۔کیا دیکھا کہ ان قیدیوں میں ایک عورت السَّبْي أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا ہے جس کے پستان سے دودھ اس وجہ سے پھوٹ وَأَرْضَعَتَهُ۔فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ پڑا کہ وہ کسی بچے کو دودھ پلایا کرتی تھی۔جب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَ بھی وہ ان قیدیوں میں کسی بچے کو پاتی تو اسے لے وَلَدَهَا فِي النَّارِ قُلْنَا لَا وَهِيَ تَقْدِرُ لیتی اور اپنے پیٹ سے اسے لگا لیتی اور اس کو عَلَى أَنْ لَّا تَطْرَحَهُ۔فَقَالَ لَلَّهُ أَرْحَمُ دودھ پلاتی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر ہم سے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ ہم نے کہا: جب تک وہ اس کو آگ میں نہ ڈالنے کی طاقت رکھے گی، ہرگز نہیں (ڈالے گی) تو آپ نے فرمایا: اللہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی یہ عورت بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا۔اپنے بچے پر۔