صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 385
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۸۵ ۷۸- كتاب الأدب دَمِ الْبَعُوضِ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ نے کہا: میں حضرت ابن عمر کے پاس موجود تھا أَهْلِ الْعِرَاقِ۔قَالَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا جبکہ ایک شخص نے مچھر کا خون کرنے کے متعلق يَسْأَلُنِي عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا پوچھا تو انہوں نے کہا: تم کن لوگوں سے ہو ؟ اس ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: اہل عراق سے۔حضرت عبد اللہ نے کہا: وَسَمِعْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس شخص کو دیکھو کہ مجھ سے مچھر کے خون کے متعلق پوچھتا ہے حالانکہ انہوں نے نبی صلی اللہ يَقُولُ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا۔علیہ وسلم کے بیٹے کو مار ڈالا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: وہ دنیا میں طرفه ٣٧٥٣۔میرے دو پھول ہیں۔٥٩٩٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۵۹۹۵ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے ، زہری نے عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ کہا: مجھے عبد اللہ بن ابو بکر نے بتایا کہ عروہ بن زبیر الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ نے ان کو خبر دی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ حضرت عائشہ نے ان کو بتایا۔حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی اس کے جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ تَسْأَلُنِي ساتھ دو بیٹیاں تھیں۔وہ مجھ سے مانگنے لگی مگر فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ میرے پاس سوائے ایک کھجور کے کچھ نہ پایا۔فَأَعْطَيْتُهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا ثُمَّ میں نے اس کو وہی دے دی تو اس نے اس کھجور قَامَتْ فَخَرَجَتْ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى کو اپنی دو بیٹیوں کے درمیان تقسیم کیا پھر اٹھ کر اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ مَنْ باہر چلی گئی۔اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے يَّلِي مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ شَيْئًا فَأَحْسَنَ اور میں نے آپ سے یہ حال بیان کیا۔آپ نے إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ۔فرمایا: جو شخص بھی ان بیٹیوں میں سے کسی کا سر پرست ہو اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے طرفه: ١٤١٨ - تو یہ اس کے لئے آگ سے بچاؤ ہوں گی۔