صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 383 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 383

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۸۳ ۷۸ - كتاب الأدب وَسَلَّمَ سَنَهْ سَنَهْ قَالَ عَبْدُ اللهِ وَهِيَ ایک زرد قمیص پہنے ہوئے تھی۔رسول اللہ صلی اللہ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنَةٌ۔قَالَتْ فَذَهَبْتُ علیہ وسلم نے فرمایا: واہ واہ کیا اچھی ہے۔عبد اللہ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَزَبَرَنِي أَبِي قَالَ نے کہا کہ سنہ حبشی زبان میں اچھی کو کہتے ہیں۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهَا کہتی تھیں: میں نبوت کی مہر کے ساتھ کھیلنے لگی تو ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میرے باپ نے مجھے جھڑ کا۔رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ أَبْلِي وَأَخْلِقِي ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي عليه وسلم نے فرمایا: اسے رہنے دو۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی: دیر تک پہنتی رہو پھر دیر تک پہنتی رہو۔تین دفعہ فرمایا۔عبد اللہ کہتے تھے: وہ زندہ رہی۔یہاں تک کہ ان کی (لمبی) ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي۔قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَقِيَتْ حَتَّى ذَكَرَ يَعْنِي مِنْ بَقَائِهَا۔أطرافه: ۳۰۷۱، ٣٨٧٤، ٥٨٢٣، ٥٨٤٥۔عمر کا انہوں نے ذکر کیا۔تشريح: مَنْ تَرَكَ صَبِيَّةَ غَيْرِهِ حَتَّى تَلْعَب پہ: جس نے دوسروں کے بچوں کو اپنے سے کھیلنے دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خدادا در عب، عظمت و جلالت شان اور وجاہت کے ساتھ ایسی دلنواز شخصیت کے مالک تھے کہ آپ کی شخصیت کا جذب ہر چھوٹے بڑے کو اپنا بنا لیتا تھا۔آپ کی طبیعت ہر قسم کی بناوٹ اور خود نمائی سے کلیۂ پاک تھی اور آپ ایسا بے نفس وجود تھے کہ بچے بھی آپ سے بے تکلف ہو جاتے تھے اور آپ کو ماں باپ سے بڑھ کر اپنا سمجھتے اور آپ بھی ہر بچے کو اپنا بچہ سمجھتے۔آپ کی شفقت اپنے بچوں اور دوسروں کے بچوں کے لئے یکساں فیضان رسا تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: "" عام طور پر اپنے بچوں کو تو آدمی پیار کر ہی لیتا ہے لیکن دوسروں کے بچوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔لیکن آپ تو قوم کے ہر بچے کو اپنا بچہ سمجھتے تھے۔جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔پھر آپ اپنے گھر والوں کی طرف چل پڑے۔میں بھی آپ کے ہمراہ ہو لیا۔پس آپ کا استقبال بچوں نے کیا۔چنانچہ آپ اُن بچوں میں سے ہر ایک کے کلوں پر باری باری پیار کرنے لگے۔جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کلوں پر بھی شفقت سے ہاتھ پھیرا۔میں نے آپ کے