صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 382
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۸۲ ۷۸ - كتاب الأدب نیک عمل دوسرے نیک عمل کی طاقت دے دیتا ہے۔تذکرۃ الاولیاء میں یہ ایک عجیب حکایت لکھی ہے کہ ایک بزرگ اہل اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ چند دن بارش رہی اور بہت مینہ برسا۔مینہ تھم جانے کے بعد میں اپنے کو ٹھے پر کسی کام کے لئے چڑھا اور میر اہمسایہ ایک بڑھا آتش پرست تھاوہ اس وقت اپنے کوٹھے پر بہت سے دانے ڈال رہا تھا۔میں نے سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ چند روز سے بباعث بارش پرندے بھوکے ہیں، مجھے اُن پر رحم آیا اس لئے میں یہ دانے اُن کے لئے ڈال رہا ہوں تا مجھے ثواب ہو۔میں نے جواب دیا کہ اے بڑھے تیرا یہ خیال غلط ہے، تو مشرک ہے اور مشرک کو کوئی ثواب نہیں ملتا کیونکہ تو آتش پرست ہے۔یہ کہہ کر میں نیچے اتر آیا۔کچھ مدت کے بعد مجھے حج کرنے کا اتفاق ہوا اور میں مکہ معظمہ پہنچا اور جب میں طواف کر رہا تھا تو میرے پیچھے سے ایک طواف کرنے والے نے مجھے میر انام لے کر آواز دی۔جب میں نے پیچھے کی طرف دیکھا تو وہی بڑھا تھا جو مشرف باسلام ہو کر طواف کر رہا تھا۔اُس نے مجھے کہا کہ کیا ان دانوں کا جو میں نے پرندوں کو ڈالے تھے مجھے ثواب ملایا نہ ملا؟ پس جبکہ پرندوں کو دانہ ڈالنا آخر کھینچ کر اسلام کی طرف لے آتا ہے تو پھر جو شخص اس کچے بادشاہ قادر حقیقی پر ایمان لاوے تو کیا وہ اسلام سے محروم رہے گا۔ہرگز نہیں۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۷۸،۱۷۷) بَاب ۱۷: مَنْ تَرَكَ صَبِيَّةَ غَيْرِهِ حَتَّى تَلْعَبَ بِهِ أَوْ قَبْلَهَا أَوْ مَازَحَهَا جس نے دوسروں کے بچوں کو اپنے سے کھیلنے دیا یا ان کو بوسہ دیا یا ان سے دل لگی کی ٥٩٩٣ حَدَّثَنَا حِبَّانُ أَخْبَرَنَا ۵۹۹۳: حبان ( بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عبد الله (بن) مبارک) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بن سَعِيدٍ خالد بن سعید سے، خالد نے اپنے باپ سے، ان قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله کے باپ نے حضرت ام خالد بنت خالد بن سعید عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي وَعَلَيَّ قَمِيصٌ سے روایت کی۔کہتی تھیں : میں رسول اللہ صلی اللہ أَصْفَرُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم کے پاس اپنے باپ کے ساتھ آئی اور میں