صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 381 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 381

صحیح البخاری جلد ۱۴ یہ وہ ۳۸۱ ۷۸ - كتاب الأدب بھی کوئی تخصیص اور فرق نہیں کیا بلکہ ہر انسان کے لئے نیکی کا نتیجہ اس کے حق میں ظاہر ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے۔وہ تعلیم ہے جو ہر قسم کے تعصب سے پاک ہے اور اس کی جڑیں انسان کے ضمیر اور فطرت میں پیوست ہیں اور بلا استثناء ہر ایک کے لئے بھلائی اور ترقی کی یہ راہ کھلی ہے۔نیکی اور بھلائی کے اس فطرتی جو ہر کو جو بھی بروئے کار لائے گا اور انسانی خدمت اور ہمدردی کی راہ پر چلے گا، اگر وہ اس میں مخلص اور باوفا ہو گا تو اس کے یہ نیک اعمال اسے دولت ایمان سے سر فراز کریں گے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر خلوص سے یہ لوگ اُن اعمال کو بجالاتے تو انہیں تقویٰ نصیب ہوتا اور اس کے نتیجہ میں اُن کو ایمان نصیب ہو جاتا۔یعنی ان اعمال کا نتیجہ یقینا یہ نکلتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان بھی ان کو مل جاتا کیونکہ نیک نیتی کے ساتھ کیا ہوا عمل ایمان کی طرف لے جاتا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حکیم بن حزام نے جو نبوت کے دعویٰ سے پہلے آپ کے دوست تھے آپ سے پوچھا کہ کفر میں جو صدقہ و خیرات میں نے کیا تھا، کیا وہ ضائع گیا؟ تو آپ نے فرمایا: أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سلف من خَيْرٍ ضائع کیوں گیا، اسی عمل کے نتیجہ میں تو تم کو دولت اسلام حاصل ہوئی۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”سوانح اسلام میں اس کی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا کریم ورحیم ہے اگر کوئی ایک ذرہ بھی نیکی کرے تب بھی اُس کی جزا میں اسلام میں اُس کو داخل کر دیتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں بھی ہے کہ کسی صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میں نے گفر کی حالت میں محض خدا تعالیٰ کے خوش کرنے کے لئے بہت کچھ مال مساکین کو دیا تھا، کیا اس کا ثواب بھی مجھ کو ہو گا؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہی صدقات ہیں جو تجھ کو اسلام کی طرف کھینچ لائے۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۰،۱۴۹) ( تفسیر کبیر، سورة البلد، زیر آیت ثمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا، جلد ۸ صفحه ۶۲۶) نیز فرمایا: ”میں نے تجربہ سے دیکھا ہے کہ ایک نیکی دوسری نیکی کی توفیق بخشتی ہے اور ایک۔(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب من وصل رحمة في الشرك)