صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 379
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۷۹ باب ١٥: لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو صرف بدلہ ہی ادا کرے - ۷۸ - كتاب الأدب ٥٩٩١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۵۹۹۱ : محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش اور حسن وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو وَفِطْرِ عَنْ بن عمرو اور فطر ( بن خلیفہ ) سے ، انہوں نے مجاہد سے ، مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو قَالَ سُفْيَانُ لَمْ يَرْفَعْهُ الْأَعْمَسُ إِلَى کی۔ سفیان کہتے تھے کہ اعمش نے اس حدیث کو النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَهُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچایا اور حسن اور قطر حَسَنٌ وَفِطْرٌ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْوَاصِلُ آپ نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو صرف بدلہ ہی ادا کرتا ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا بِالْمُكَافِي وَلَكِنَّ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا وہ شخص ہے کہ جب اس سے تعلق توڑ دیا جائے تو قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا ۔ وہ اس کو جوڑے۔ تشریح : لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُعافی: یعنی صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو صرف بدلہ ہی ادا کرے۔ تعلق رکھنے والوں سے تعلق رکھنا تو عام انسانی رشتوں میں نظر آتا ہے اور یہ کوئی کمال نہیں بلکہ ایک طبعی تقاضا ہے مگر ان لوگوں سے تعلق رکھنا اور ان رشتوں کو نبھانا جو تعلق کاٹتے ہوں اور بد سلوکی کرتے ہوں، شہر پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہوں اور ان سے خیر کی کبھی اُمید نہ ہو، ان کے شر کے مقابل خیر اور ان کی بدخواہی کے مقابل خیر خواہی کرنا اور وہ بھی بے لوث اور بے غرض، یہ وہ اعلیٰ خلق ہے جس کی معراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوتی تھی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تو جس قدر اپنے بھائی سے نیکی کرے یا جس قدر بنی نوع کی خیر خواہی بجالا وے اُس سے کوئی اور کسی قسم کا احسان منظور نہ ہو بلکہ طبعی طور پر بغیر پیش نہاد کسی غرض کے وہ تجھ سے صادر ہو جیسی شدت قرابت کے جوش سے ایک خویش دوسرے خویش کے ساتھ نیکی کرتا ہے۔ سو یہ اخلاقی ترقی کا آخری کمال ہے کہ ہمدردی خلائق