صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 378
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۷۸ ۷۸ - كتاب الأدب یعنی خدا کے گھر کا رستہ بند کر دیا اور بعض غریب احمدیوں کو ایسی ذلت آمیز اذیتیں پہنچائیں کہ جن کے ذکر تک سے شریف انسان کی طبیعت حجاب محسوس کرتی ہے۔مگر حضور کی رحمت اور شفقت کا یہ عالم تھا کہ مرزا نظام الدین صاحب جیسے معاند کی بیماری کا علم پا کر بھی حضور کی طبیعت بے چین ہو گئی۔“ (سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ ۲۹۱،۲۹۰) تو یہ ہے اس صحیح اور مہدی کا اُسوہ۔اب ہم میں سے ہر ایک کو جو آپ کی جماعت کی طرف منسوب ہو رہے ہیں۔ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے کہ ہم کس حد تک اس پر عمل کرتے ہیں۔بعض دفعہ بعض ایسے رشتہ دار بھی ہوتے ہیں، ہمسائے بھی ہوتے ہیں، جن پر جتنا چاہے حسن سلوک کر وجب بھی موقع ملے نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے۔ان کی سرشت میں ہی نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ان کا وہی حساب ہوتا ہے کہ بچھوؤں کی ایک قطار جارہی تھی۔کسی نے پوچھا کہ اس میں سردار کون ہے۔انہوں نے کہا کہ جس کے ڈنگ پر ہاتھ رکھ دووہی سردار ہے ، وہ ڈنگ مارے گا۔لیکن حکم کیا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیئے۔ایسے لوگوں کے بارہ میں حسن ظن کی ایک روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں۔میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں وہ توڑتے ہیں، میں احسان کرتا ہوں وہ بدسلو کی کرتے ہیں۔میرے نرمی اور حلم کے سلوک کا جواب وہ زیادتی اور جہالت سے دیتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ ایسا ہی کرتے ہیں جیسا تم نے بیان کیا تو تم گویا ان کے منہ پر خاک ڈال رہے ہو (یعنی ان پر احسان کر کے ان کو ایساشر مسار کر کے رکھ دیا ہے کہ وہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔) اور اللہ کی طرف سے تمہارے لئے ایک مددگار فرشتہ اُس وقت تک مقرر رہے گا جب تک تم اپنے حسن سلوک کے اس نمونہ پر قائم رہو گے۔“ خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۲۳ جنوری ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۷۴،۷۳) ۱ (مسند احمد، جلد ۲ ص۳۰۰، مطبوعہ بیروت)