صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 377
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب اور دعا کا خواستگار ہوا۔آپ کے رشتہ داروں اور قوم نے آپ سے ہر قسم کا سوشل بائیکاٹ بھی کیا، ہر رشتہ کو توڑا مگر آپ کی صلہ رحمی اور رشتوں کے حقوق کی ادائیگی میں فرق نہیں پڑا بلکہ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ کے مطابق ان کی تکالیف پر آپ بے چین ہوتے اور ان کی خیر خواہی کے لئے خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ”رسول کریم کے اکثر رحمی رشتہ داروں نے دعوئی نبوت پر آپ کی مخالفت کی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بے شک قریش کی فلاں شاخ والے لوگ میرے دوست نہیں رہے، دشمن ہو گئے ہیں مگر آخر میرا ان سے ایک خونی رشتہ ہے، میں اس رحمی تعلق کے حقوق بہر حال ادا کر تار ہوں گا۔لے تو دیکھیں یہ وہ تعلیم ہے جس پر آپ نے عمل کر کے دکھایا۔پھر اپنے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کیا نمونہ تھا۔یہ واقعہ نہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ”ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو یہ اطلاع ملی کہ یہی مرزا نظام الدین صاحب جو حضرت مسیح موعود کے اشد ترین مخالف تھے بیمار ہیں، اس پر حضور اُن کی عیادت کے لئے بلا توقف اُن کے گھر تشریف لے گئے۔اُس وقت اُن پر بیماری کا اتنا شدید حملہ تھا کہ ان کا دماغ بھی اس سے متاثر ہو گیا تھا۔آپ نے اُن کے مکان پر جا کر ان کے لئے مناسب علاج تجویز فرمایا جس سے وہ خدا کے فضل سے صحت یاب ہو گئے۔ہماری اماں جان حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا بیان فرماتی تھیں کہ باوجود اس کے کہ مرز انظام الدین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت مخالف بلکہ معاند تھے ، آپ اُن کی تکلیف کی اطلاع پاکر فورا ہی اُن کے گی تشریف لے گئے اور اُن کا علاج کیا اور اُن سے ہمدردی فرمائی۔یہ وہی مرزا نظام الدین صاحب ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے خلاف بعض جھوٹے مقدمات کھڑے کئے اور اپنی مخالفت کو یہاں تک پہنچا دیا کہ حضرت مسیح موعود اور حضور کے دوستوں اور ہمسایوں کو دکھ دینے کے لئے حضور کی مسجد (صحیح بخاری، کتاب الادب، باب تبل الرحم بيلالها)