صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 376 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 376

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب باب ١٤ : تُبَلُ الرَّحِمُ بِبَلَالِهَا صلہ رحمی کرے جو صلہ رحمی کا حق ہے ٥٩٩٠ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ۵۹۹۰ : عمرو بن عباس نے مجھے بتایا کہ محمد بن جعفر حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ نے ہم سے بیان کیا۔شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، اسماعیل نے قیس بن قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الى حازم سے روایت کی کہ حضرت عمرو بن عاص الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلانیہ طور پر سنا، پوشیدگی میں نہیں۔آپ فرماتے تھے کہ ابی (فلاں) کا خاندان۔عمرو ( بن عباس) کہتے تھے : محمد بن جعفر کی کتاب میں ابی کے بعد جگہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِهَارًا غَيْرَ سِرّ - يَقُولُ إِنَّ آلَ أَبِي - قَالَ عَمْرُو فِي كِتَابِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بَيَاضٌ - خالی تھی۔وہ میرے عزیز نہیں میرے عزیز تو لَيْسُوا بِأَوْلِيَائِي إِنَّمَا وَلِيَيَ اللهُ وَ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ۔زَادَ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ بَيَانٍ عَنْ قَيْسِ عَنْ اللہ اور نیک مؤمن ہیں۔عنبہ بن عبد الواحد نے بیان (بن بشر ) سے ، بیان نے قیس سے ، قیس نے حضرت عمرو بن عاص سے روایت کرتے ہوئے عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ اتنا بڑھایا۔انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ لَّهُمْ رَحِمٌ علیہ وسلم سے سنا۔مگر ان کا ایک رشتہ ہے جسے میں أَبُلُّهَا بِلَاهَا يَعْنِي أَصِلُهَا بِصِلَتِهَا۔جوڑے رکھتا ہوں اسی سلوک سے جو اس کے ساتھ کرنے کا حق ہے۔تشريح : تُبَلُ الرَّحم بِبَلا ليها: یعنی صلہ رحمی کرے جو صلہ رحمی کا حق ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ میں سے جن اخلاق کا آپ کے دعویٰ نبوت سے قبل بھی شہرہ تھا ان میں صلہ رحمی کا خلق نمایاں تھا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو پہلی وحی کے بعد تسلی دیتے ہوئے آپ کی جن خوبیوں کو آپ کی ترقیات کا زینہ قرار دیا ان میں صلہ رحمی کا بطور خاص ذکر کیا۔دعویٰ نبوت کے بعد آپ کے معاندین اور دشمن بھی آپ کے اس خلق کے اقراری اور معترف تھے۔ابو سفیان نے ہر قل کے دربار میں آپ کی صلہ رحمی کی تعلیم کا ذکر کیا اور جب قحط سالی ہوئی تو یہی ابوسفیان آپ سے صلہ رحمی کا واسطہ دے کر مدد