صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 375
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۷۵ ۷۸ - كتاب الأدب شريح : مَنْ وَصَلَ وَصَلَهُ اللهُ: یعنی جس نے صلہ رحمی کی اللہ اس سے ناطہ جوڑے گا۔ابواب نمبرے سے ۱۶ تک رحمی رشتوں کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم اور اس کے فوائد اور عدم ادائیگی حقوق سے ان نقصانات سے باخبر کیا گیا ہے جو بطور سزا انسان کو پہنچ سکتے ہیں۔اسلامی معاشرہ کی یہ وہ روح اور فلسفہ ہے جس پر ایک صحت مند اور مہذب معاشرہ پروان چڑھتا ہے اور اسلامی معاشرہ کے یہ وہ خد و خال ہیں جو اسے دیگر سوشل نظام سے بالاتر اور اوج ثریا تک پہنچاتے ہیں اور یہی وہ جنت نظیر معاشرہ ہے جس کی بناء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ہاتھوں سے رکھی گئی اور یہی وہ جنت ارضی ہے جو جنت سمادی کا پیش خیمہ ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِہ جس کے واسطے دے دے کر تم ایک دوسرے سے خیر چاہتے ہو، جس کے نام پر استدعا کرتے ہو۔والارحام اور رحمی رشتوں کو نہ بھولنا، خصوصیت کے ساتھ رحمی تعلقات کو فروغ دو ہر سوشل نظام کی ایک روح اور ایک فلسفہ ہوتا ہے۔اسلامی سوشل نظام کی روح اور فلسفہ خاندان کے نظام کو تقویت دینا ہے جس کی بنیا د ارحام پر ہے۔اور رحمی رشتوں کو تقویت دینے کا رحمان سے تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بھی کھول کر بیان فرما دیا کہ رحم اور رحمان دونوں ایک ہی مادے سے نکلے ہوئے لفظ ہیں۔اس لئے وہ شخص جو رحمی رشتوں کو کاتا ہے اُس کا رحمن خدا سے بھی تعلق کٹ جاتا ہے۔پس یہ مضمون آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔“ خطبات ،طاہر ، خطبه جمعه فرموده ۱۴ فروری ۱۹۸۶، جلد ۵ صفحه ۱۴۰) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگ غیروں سے احسان کرتے ہیں پر اپنوں سے نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحم نے جناب الہی میں عرض کیا: تیرے نام رحمان، رحیم میں بھی یہی مادہ موجود ہے۔میر الحاظ رکھو۔اللہ نے فرمایا: میں تیرا ایسا خیال رکھوں گا جو تجھے قطع کرے گا، میں اُس سے قطع کروں گا۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۲ صفحہ ۲۲)