صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 14 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 14

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۴ ۷۵ - کتاب المرضى ٥٦٥٠ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۵۶۵۰ حفص بن عمر (حوضی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ کیا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدِ که اشعث بن سلیم نے مجھے خبر دی، اشعث نے بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ کہا: میں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے سنا۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ معاویہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے تھے انہوں نے کہا: ہمیں رسول صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعِ نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتیں کرنے کا حکم دیا اور سات سے ہی روکا۔ ہمیں سونے کی انگوٹھی، وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْإِسْتَبْرَقِ حریر اور دیباج اور استبرق پہننے اور قسی اور ریشمی وَعَنِ الْقَسِيِّ وَالْمِيثَرَةِ وَأَمَرَنَا أَنْ نَتْبَعَ زین پوش کے استعمال کرنے سے روکا اور یہ روکا اور ہمیں حکم الْجَنَائِزَ وَنَعُودَ الْمَرِيضِ وَنُفْشِيَ السَّلَام۔ دیا کہ ہم جنازوں کے ساتھ جائیں، بیمار کی عیادت کریں اور ہر کس و ناکس کو سلامتی کی دعا دیں۔ أطرافه : ۱۲۳۹ ، ٢٤٤٥ ، ٥١٧٥، ٥٦٣٥، ٥٨٣٨، ٥٨٤٩ ، ٥٨٦٣ ، ٦٢٢٢، ٦٢٣٥، ٦٦٥٤۔ تشریح : وُجُوبُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ : بیار کی عیادت کر ناضروری ہے۔ مریض کی عیادت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واجب قرار دیا ہے۔ زیر باب احادیث میں بھوکوں کو کھانا کھلانے، بیمار کی عیادت کرنے، جنازوں کے ساتھ جانے، سلام کو عام کرنے اور قیدیوں کو رہائی دلانے کے ساتھ سونے کی انگوٹھیاں پہننے اور ریشم کی مختلف اقسام کے اعلیٰ لباس پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ ان دو باتوں کو اکٹھا بیان کر کے معاشرے میں طبقاتی تقسیم کو پیدا ہونے سے روکا گیا ہے جو اگر پیدا ہو جائے تو بالآخر معاشرے کی شکست وریخت پر منتج ہوتی ہے۔ اس خلیج کو ختم کرنے کے لیے ایک دوسرے کی خوشی نمی میں شریک ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس سے معاشرے میں باہم محبت و اخوت کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکلیف کو محسوس کر کے ایک مومن اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ میں اور میرا بھائی ایک وجود ہیں، اس کی تکلیف میری تکلیف ہے، اور اس کی خوشی میری خوشی ہے۔ اور جو لوگ ایک دوسرے کی تکالیف میں ان کے پرسانِ حال بنتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا بہت پسند آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : الخَلْقُ عَيَالِ اللهِ ( مسند البزار، مسند ابی حمزه انس بن مالك، جزء ۱۳ صفحہ ۳۳۲) یعنی مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ پس جو شخص اللہ کے عیال یعنی اس کے بندوں کی خبر گیری اور خیر خواہی